ادلب میں امن کے لیے ترکی نے سوچی معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ کر دیا

0 303

صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا ہے کہ "ادلب کے معاملے پر ہمارا بنیادی ہدف سوچی معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کروانا ہے۔ ادلب مذاکرات کے دوران روس کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اب تک ترکی کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ بشار الاسد حکومت ادلب پر حملوں سے باز رہے۔ "ترکی چاہتا ہے کہ اس کی چوکیوں کو حد تسلیم کیا جائے اور اسد حکومت اپنے حملے بند کرے۔”

ترکی بشار الاسد کی افواج کی جانب سے دو حملوں کے بعد ادلب میں اپنی چوکیوں کو کمک پہنچا رہا ہے۔ ان حملوں میں 13 ترک فوجی اور ایک سویلین شہید جبکہ 45 زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے فوج نے کم از کم 330 فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ بھیجا تھا، جو حالیہ کچھ عرصے میں خطے میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا فوجی قافلہ ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ جہاں سے بھی خطرہ ہوگا، ترکی ان اہداف کو فوراً نشانہ بنائے گا اور اعادہ کیاکہ ترکی وتوقع رکھتا ہے کہ بشار کی افواج فروری کے اختتام تک چوکیوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی، بصورتِ دیگر وہ نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے بھی ادلب کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلیے ترکی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترکی اب تک شمالی شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے تین سرحد پار آپریشنز کر چکا ہے، ساتھ ہی شامی مہاجرین کی بحفاظت واپسی اور شام کی علاقائی سالمیت کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ یہ فوجی آپریشنز تب کیے گئے جب مسلسل انتباہ کے باوجود ترکی کے جائز خدشات پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

اسد حکومت کی افواج ادلب میں سراقب کے اہم قصبے میں داخل ہو چکی ہیں جو حزب اختلاف کے اہم علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی نئی کوششوں کا حصہ ہے، اور انہوں نے اس سلسلے میں ترکی کے انتباہ کو بھی نظر انداز کیا۔

تبصرے
Loading...