ترکی نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب تباہ کر دی

0 1,498

ترکی نے شمال مغربی شام میں ایک کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب کو تباہ کر دیا ہے۔

ترک حکام نے ہفتے کو بتایا کہ ان کی فوج نے گزشتہ شب شامی حکومت کے کئی ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ حلب سے 13 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب کو بھی ٹھکانے لگایا ہے۔”

قبل ازیں وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ترک مسلح افواج نے روسی ساختہ S-1 Pantsir ایئر ڈیفنس سسٹم، آٹھ ٹینک، چار بکتر بند گاڑیوں، پانچ توپوں اور دو بیرل راکٹ لانچرز کو بھی تباہ کیا ہے اور ساتھ ہی شامی حکومت کے 56 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

جمعرات کو شمال مغربی صوبہ ادلب میں شامی حکومت کے حملے میں 36 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد ترک افواج جمعے سے شامی ٹھکانوں پر فضائی حملے اور گولا باری کر رہی ہیں۔

روسی فضائی حملوں کی مدد سے شامی حکومت سال کے آغاز سے ہی حلب اور ادلب کے نواحی علاقوں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے کہ جو ملک میں حزب اختلاف کا آخری گڑھ ہیں۔ اس پیش رفت نے لاکھوں شامی شہریوں کو ترکی کی سرحدوں کی جانب سفر پر مجبور کر دیا ہے کہ جو 9 سالہ جنگ کے دوران سب سے بڑی ہجرت ہے۔

ستمبر 2018ء میں ترکی اور روس نے ادلب کو ایک de-escalation زون میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں جارحانہ اقدامات اٹھانے پر سخت پابندی تھی۔ تب سے اب تک اس زون میں حکومت اور روسی افواج کے حملوں سے 1,300 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں کیونکہ سیزفائر کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی۔

ان شدید حملوں کی وجہ سے 10 لاکھ سے زیادہ شامی شہری ترک سرحد کی جانب منتقل ہو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...