ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، وزارتِ خارجہ

0 149

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک "مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔”

ایک بیان میں وزارت کے ترجمان حامی آق صوئے نے کہا کہ ترک پٹرولیم کارپوریشن کی مشرقی بحیرۂ روم میں تیل کی تلاش اور ڈرلنگ کے لیے اجازت نامے کی حالیہ درخواست اقوام متحدہ کی تعریف کے عین مطابق ترکی کے براعظمی کنارے کی حدود کے اندر ہے۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی علاقے میں اپنے حقوق کا بھرپور تحفظ کرے گا، آق صوئے نے کہا کہ سائنسی تحقیق اور ڈرلنگ کی سرگرمیاں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی ہیں۔

آق صوئے کا بیان یونانی وزیر خارجہ نکوس ڈینڈیاس کے اس دعوے کے فوراً بعد آیا ہے جس میں انہوں نے مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی سرگرمیوں کو "غیر قانونی” قرار دیا تھا۔

1974ء میں قبرص پر قبضہ کرنے کی کوشش کی وجہ سے انقرہ کو ایک ضامن طاقت کی حیثیت سے مداخلت کرنا پڑی۔ 1983ء میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام عمل میں آیا۔ تب سے آج تک مسئلہ قبرص کو حل کرنے کی متعدد کوششیں ہوئی ہیں لیکن سب ناکام رہیں۔ آخری بار 2017ء میں ترکی، یونان اور برطانیہ جیسے ضامن ممالک مذاکرات کر چکے ہیں۔

انقرہ پچھلے سال سے مشرقی بحیرۂ روم میں ڈرلنگ کے بحری جہاز بھیج رہا ہے جو خطے میں ترکی اور شمالی قبرص کے وسائل پر کام کر رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...