ترکی کسی بھی ملک کی آزادی اور مفادات کے خلاف کوئی مقصد نہیں رکھتا، صدر ایردوان

0 203

ٹی آر ٹی ورلڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے اس امر پر زور دیا کہ ترکی کسی بھی ملک یا برادری کی آزادی اور مفادات کے خلاف مقاصد نہیں رکھتا اور کہا کہ "ہم ایسے کسی بھی الزام کو اپنی بدترین توہین سمجھتے ہیں۔ ہم صرف اپنے حقوق اور اپنے بھائیوں اور بہنوں کے حقوق اور مستقبل کا تحفظ کر رہے ہیں کہ جنہیں ہم اپنا اٹل حصہ سمجھتے ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول میں ٹی آر ٹی ورلڈ فورم سے خطاب کیا۔

"آزادی کسی کا عطا کردہ عطیہ نہیں بلکہ ایک مقدس وصف ہے جو بزورِ شمشیر حاصل کیا گیا ہے”

یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ جن ریاستوں کی سرحدیں میزوں پر بیٹھ کر بنائی جاتی ہیں، وہ ان ریاستوں کے مقابلے میں کبھی حقیقت ریاست نہیں بن سکتیں کہ جو خون پسینے سے تعمیر ہوتی ہیں، صدرایردوان نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "جس عمل سے ہم گزر رہے ہیں، وہ ایک مرتبہ پھر ظاہر کر چکا ہے کہ آزادی کسی کا دیا گیا عطیہ نہیں بلکہ ایک مقدس وصف ہے جس کے لیے طاقت اور بہادری کے ذریعے لڑا جاتا ہے اور اسے حاصل کیا جاتا ہے اور پھر ایک ثابت قدمی اور اولو العزمی سے اُس کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ خطے میں ترکی اور دوسری ریاستوں میں یہی فرق ہے۔ ہم ایسی قوم ہے جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ اس نے بھاری قیمت ادا کرکے حاصل کیا ہے۔”

"اقتصادی تعلقات کو سیاسی اہداف کے لیے استعمال کرنا خودکشی کے مترادف ہے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کسی بھی ملک یا برادری کی آزادی و مفادات کے خلاف کوئی مقاصد نہیں رکھتا، صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم ایسے کسی بھی الزام کو اپنی بدترین توہین سمجھتے ہیں۔ ہم صرف اپنے اور اپنے بھائیوں و بہنوں کے حقوق اور مستقبل کا تحفظ کر رہے ہیں کہ جنہیں ہم اپنا اٹل حصہ سمجھتے ہیں۔”

صدر ایردوان نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ اب طاقتور کے لیے سفارت کاری کو زبردستی استعمال کرنا ممکن نہیں، کہا کہ "یہ مسخ شدہ نظام، جو ہر ظلم کا جواز تراشنے کے لیے بنا ہے، اب اسے ختم ہونا ہوگا۔ عالمی نظام میں کمزور ترین کڑی اقتصادی تعلقات کو سیاسی ہدف کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا درحقیقت خودکشی کے مترادف ہے۔”

تبصرے
Loading...