ترکی معاشی اصلاحات کے نفاذ کے دور میں داخل ہو چکا، قیمتوں کا استحکام اولین ترجیح ہے، صدر ایردوان

0 95

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی نے معاشیات اور قانون کے شعبے میں اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں کہ جن میں اس سال کے لیے سب سے بڑا ہدف قیمتوں کو مستحکم کرنا اور افراطِ زر کے خلاف مزاحمت جاری رکھنا ہے۔

صدر خارجہ اقتصادی تعلقات بورڈ (DEIK) اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے شرحِ سود کو کم رکھنے اور افراطِ زر کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے ترک لیرا کی شرح میں ڈالر کے مقابلے میں 12 فیصد اور یورو کے مقابلے میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ چند ماہ میں 15 ارب ڈالرز سے زیادہ کے پورٹ فولیو ترکی میں داخل ہوئے ہیں۔ مرکزی بینک جمہوریہ ترکی (CBRT) کی جانب سے دسمبر کے اواخر میں اہم شرحِ سود بڑھانے سے ترک لیرا 6 نومبر کو 8.5832 کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد بحال ہوا ہے۔ یہ اِس وقت امریکی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 7.40 پر کھڑا ہے۔

صدر ایردوان نے چار بنیادی شعبوں کی اہمیت پر زور دیا: سرمایہ کاری، روزگار، پیداوار اور برآمدات۔ انہوں نے کہا کہ "اگر یہ چار شعبے کام نہیں کر رہے تو پھر شیخیاں بگھارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنیادی چیز ہے کہ شرحِ سود کو کم کر کے افراطِ زر کو کم رکھنا۔” اس حوالے سے اصلاحات جلد ہی عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی اور یہ کہ اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم موجودہ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ 2020ء میں کُل بجٹ اخراجات 1.2 ٹریلین ترک لیرا (160 ارب ڈالرز) تک پہنچے، یعنی ہمارے پروگرام ہدف سے کم رہے۔”

صدر نے کہا کہ سال کے اختتام پر مرکزی بینک کا بجٹ میزان تقریباً 173 ارب ترک لیرا تھا، جس نے 239 ارب ترک لیرا کے ہدف کو باآسانی پیچھے چھوڑا۔

انہوں نے زور دیا کہ گزشتہ 18 ماہ میں جو اصلاحات کی گئی ہیں انہوں نے ملک کو وباء کے مشکل ایام میں دوسرے ملکوں سے ممتاز رکھا۔ "ترکی وباء کے بعد کے دور میں ایک مضبوط، پائیدار اور مقابلے کا ملک بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کو اپنے اداروں اور مصنوعات کی دنیا میں بہتر انداز میں تشہیر و ترویج کے ساتھ تجارتی سفارت کاری میں نئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ "ترک اداروں نے وباء کے دوران اپنی بھروسہ مندی کی وجہ سے دیگر مقابل اداروں کے مقابلے میں اپنی ساکھ بنائی ہے۔ بلاشبہ یہ صورت حال دنیا بھر میں ایشیائی پیداواری ماڈل کا نیا متبادل تشکیل دینے کی کوششوں کا سبب بنی ہے۔ عالمی تجارت میں زوال کے باوجود ترکی نے معیشت میں مثبت نمو حاصل کی ہے۔”

صدر ایردوان نے یہ بھی کہا ہے کہ ترکی نے 2020ء میں 169.5 ارب ڈالرز کی برآمدات کیں۔ "گزشتہ سال 18,123 ترک ادارے پہلی بار برآمد کنندہ بنے۔ ہمارے اقدامات نے برآمد کنندگان کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے سہولیات دیں۔”

تبصرے
Loading...