نیٹو دوستوں کو الائنس کی روح اور تاسیسی اقدار کے مطابق قدم اٹھانے چاہئیں

0 777

انقرہ کے چانکایا محل میں North Atlantic Council Mediterranean Dialogueاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے نیٹو کے قدیم ترین اراکین میں سے ایک ترکی کو درپیش خطرات سے شرکاء کو آگاہ کیا اور اجلاس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس میں بین الاقوامی سکیورٹی ماحول میں واضح دراڑیں پائی جاتی ہیں اور ایسے مبہم خطرات ہیں کہ جو الائنس کی سکیورٹی کے لیے براہِ راست خدشات رکھتے ہیں جیسا کہ دہشت گردی میں اضافہ۔

سائبر سکیورٹی پہلوؤں سمیت ہائبرڈ جنگوں کے بڑھتے ہوئے مواقع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ایسے ماحول میں عالمی امن و سالمیت کا تحفظ جن کی ذمہ داری ہیں، انہیں سنجیدہ رکاوٹوں اور مداخلت کا سامنا ہے۔ یہ ادارے یا تو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سرے سے فیصلہ ہی نہیں کر پاتے یا پھر طے شدہ فیصلوں کا اطلاق نہیں کر پاتے۔

گزشتہ آٹھ سالوں میں ترکی خود شام سے درپیش خطرات کے سائے تلے رہا اور اس کی معیشت سے لے کر سالمیت، سماجی سلامتی سے لے کر سیاست تک ہر پہلو میں اسے محسوس کیا گیا، اس حوالے سے صدر ایردوان نے زور دیا کہ نیٹو اتحادی کی حیثیت سے ترکی نے غیر قانونی ہجرت اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ مہاجرین کے ساتھ ترکی دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ صدر ایردوان نے اس پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی مہاجرین پر 35 ارب ڈالرز سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں اور داعش کو اس کے گڑھ میں ختم کرنے کے لیے آپریشن فرات شیلڈ کیا گیا۔ "ہم واحد نیٹو ملک ہیں جس نے شام میں دست بدست داعش کا مقابلہ کیا اور اس دہشت گرد تنظیم کو شکست دی، وہ بھی اس وقت جب ترکی پر کئی الزامات تک لگائے گئے۔ آپریشن اولِو برانچ کے ذریعے ہم نے PKK کی شامی شاخ کے قبضے سے عفرین کا علاقہ بھی آزاد کروایا۔ ہم نے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار شامی مہاجرین کا دہشت گردی سے پاک ‘محفوظ علاقوں’ میں واپس جانا ممکن بنایا۔ ترکی کی کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں اُن علاقوں میں اب امن ہے کہ جہاں محض چند سال پہلے دہشت گرد تنظیموں کا راج تھا۔ ایک مرتبہ پھر ہم نے ادلب میں کارروائی کی، جہاں ایک عظیم انسانی سانحہ جنم لینے والا تھا اور ہم نے وہاں امن قائم کیا۔ یوں ہم نے لاکھوں معصوم شامی باشندوں کو موت کے گھاٹ اترنے سے بچایا اور غیر قانونی ہجرت کے بہاؤ کو بھی روکا جو یورپ کو بہت بری طرح متاثر کر سکتا تھا۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "یکساں استحکام نیٹو کی روح ہے اور ہم ریاستوں کی حیثیت سے اس کی حفاظتی چھتری تلے موجود ہیں۔ گو کہ ہم جغرافیائی طور پر مختلف بر اعظموں میں واقع ہیں، لیکن ہم اپنے ممالک کو درپیش خطرات کے معاملے میں ایک جیسا نصیب رکھتے ہیں۔ یہ نیٹو کے مقاصد کے ہی خلاف ہے کہ وہ اِس اتحاد کے کسی رکن کو دہشت گردی جیسے سنجیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ دے۔”

"ترکی داعش اور FETO جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے کچھ اتحادی اِس دہشت گرد تنظیم کے بغاوت میں براہِ راست ملوث کرتا دھرتاؤں اور اراکین کو پناہ دیے ہوئے ہیں تاکہ وہ انصاف کے کٹہرے میں نہ آ سکیں۔ اسلام کا خوف (اسلاموفوبیا) اور دیگر ممالک کے لوگوں کا خوف (زینوفوبیا) ، جو مغربی معاشروں میں طاعون کی طرح پھیل چکا ہے، ترک شہریوں سمیت لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور املاک کے لیے خطرہ ہیں۔ سری لنکا اور نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی سنگین کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ مسائل کس سطح تک پہنچ گئے ہیں۔” صدر ایردوان نے کہا ۔ "ضروری اقدامات اور مشترکہ کارروائی نہ کرنے کی گئی تو دہشت گردی کا یہ عذاب مزید بڑھتا رہے گا۔ ترکی کی بقاء کے لیے درپیش مسائل کے روبرو ہمیں اپنے اتحادیوں سے اِس وقت صرف ایک توقع ہے۔ ہمیں نیٹو میں اپنے دوستوں سے امید ہے کہ وہ اس اتحاد کی روح کے عین مطابق آگے بڑھیں گے اور اس کی تاسیسی اقدار کو برقرار رکھیں گے۔ ہم اپنے اتحادیوں کی جانب سے اِن گروپوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کے خواہشمند ہیں کہ جنہیں وہ خود بھی دہشت گرد سمجھتے ہیں۔”

صدر مملکت نے مزید کہا کہ "ترکی کے اتحادیوں کی جانب سے اِن دہشت گرد تنظیموں کو ہتھیار اور دیگر سامان فراہم کرنے اور چند دیگر ملکوں دہشت گردوں کے سرغنہ افراد کے لیے سرخ قالین بچھانے کا کوئی معقول جواز نہیں ہے، کہ جو ترکی کے شہریوں کی جانیں لیتے ہیں ۔”

ترکی نیٹو کے اندر مضبوط مقام برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات، علاقائی سالمیت اور استحکام کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھائے گا۔ صدر ایردوان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمیں چند حالیہ مسائل جیسا کہ S-400 پر بحث پیدا کرنے کوششوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کے اپنے استحقاق کے زمرے میں آتا ہے۔ نیٹو کے ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اپنی قومی حفاظت و سالمیت کو مضبوط کے اقدامات کو ہماری بنیادوں پر جانچا جانا چاہیے۔ ترکی کو محدود کرنا اور ہمارے رحجانات کے بارے میں غلط سوچ اختیار کرنا دراصل ہمیں، ہماری تاریخ اور ہماری جغرافیائی حیثیت سے لاعلمی کے مترادف ہے۔ ہم یورو-اٹلانٹک خطے کی حفاظت اور سالمیت کے لیے اپنا بہترین حصہ جاری رکھتے ہوئے بحیرہ روم کے علاقے میں بھی امن کو یقینی بنانے کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ہم اسے تہذیب کے گہوارہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...