امریکا حقیقی اتحادی کا کردار ادا کرے، صدر ایردوان

0 591

ترکی امریکا سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے گا جو اسے ترکی کا حقیقی اتحادی قرار دیں، صدر رجب طیب ایردوان نے منگل کو کہا۔

"ہم ہر پہلو سے اپنے قومی مفادات کا دفاع کریں گے چاہے نرمی سے ہو، طاقت ور سفارت کاری سے یا عملی سیاست سے ،” صدر ایردوان نے دارالحکومت انقرہ میں سفارت کاروں کی 11 ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

ایردوان نے کہا کہ شمالی شام میں پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ترکی جلد ہی اگلا قدم اٹھائے گا، جیسا کہ اس نے آپریشن فرات شیلڈ اور آپریشن شاخِ زیتون میں اٹھائے تھے۔

یہ تبصرہ امریکی وزیر دفاع مارک اسپر کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی آیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن شمالی شام میں ترک افواج کے آپریشن کو روکنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ جہاں امریکا نے داعش کے خلاف لڑائی کے دوران ابتدائی طور پر YPG کی حمایت کی تھی۔ YPG ترکی، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے PKK گروپ کی شامی شاخ ہے۔

ترکی امید رکھتا ہے کہ امریکا شام میں YPG کو مسلح کرنا بند کر دے گا، صدر ایردوان نے زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا جب تک کہ اس کی جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کو بھاری ہتھیاروں کی فراہمی بند نہیں ہو جاتی۔ ایردوان نے عراق میں بھی PKK دہشت گردوں کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ انقرہ گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کے رہنما اور ترکی کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں میں سے ایک فتح اللہ گولن کی حوالگی کے بارے میں بھی واشنگٹن سے واضح اقدامات چاہتا ہے۔

FETO نے 15 جولائی 2016ء کو بغاوت کی ناکام کوشش کی تھی جس کے دوران 251 شہری شہید اور تقریباً 2200 زخمی ہوئے تھے۔ انقرہ FETO پر پولیس، فوج اور عدلیہ میں سرایت کرکے ریاست کا تختہ الٹنے کی طویل مہم کا بھی الزام لگاتا ہے۔

"ترکی کی جانب سے روس سے S-400 میزائل سسٹم خریدنا کمرشل تھا، اسٹریٹجک نہیں۔” ایردوان نے امریکا سے ایسا ہی سسٹم خریدنے کی طویل کوششوں میں ناکامی کے بعد روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے حوالے سے کیے گئے فیصلے پر کہا۔

امریکا نے جولائی میں 428 ارب ڈالرز کے F-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ پروگرام سے ترکی کو نکال دیا تھا کہ جب انقرہ نے S-400 سسٹم خریدنے کو اپنا حق قرار دیا۔ امریکا کہتا ہے کہ نیٹو اتحادی کی جانب سے روسی سسٹم خریدنا الائنس کی ملٹری انٹیلی جنس کو خطرے میں ڈالتا ہے، خاص طور پر F-35 جیٹ کو، جبکہ انقرہ اس دعوے کو رد کرتا ہے۔

ایردوان نے نسل پرستانہ دہشت گردی میں اضافے پر کہا کہ امریکا میں گزشتہ دنوں ہونے والے واقعات "نسل پرستانہ دہشت گردی کا خونخوار چہرہ ظاہر کرتے ہیں۔” 24گھنٹے کے دوران ایل پاسو، ٹیکساس اور ڈیٹن، اوہائیو میں پیش آنے والے دو مختلف حملوں میں 31 افراد جان سے گئے کہ جو دو نو عمر سفید فام دہشت گردوں نے کیے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایل پاسو کے دہشت گرد نے ہسپانوی باشندوں پر حملے کرنے کے لیے میکسیکو کی سرحد کے قریبی شہر تک کا سفر کیا۔

ایرودان نے زور دیا کہ ان حملہ آوروں کو اپنی نسل، رنگ یا زبان کی بنیاد پر نہ جانچا جائے بلکہ یہ دوسرے دہشت گردوں سے کسی طرح مختلف نہیں۔

انہوں نے بیرون ملک مقیم ترک شہریوں درپیش مسلسل دھمکیوں کی جانب بھی توجہ دلائی۔ "یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے نسل پرستانہ حملوں کو روکیں اور ان کے مرتکب افراد کو تلاش کریں۔”

تبصرے
Loading...