ایردوان کی نئی معاشی پالیسی، برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

سال 2019 کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات کا ہجم 44.5 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ گیا، جو ایک ریکارڈ ہے

0 710

ترکی کی کل ملکی برآمدات میں اضافے کا حالیہ رجہان رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی ناصرف برقرار رہا بلکہ اس نے 44.5 بلین ڈالر کی حد کو عبور کرکے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کرلیا ہے۔ یہ بات ترکی کی وزیر تجارت رخسار پیجان نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

انہوں نے بتایا کہ اسی مدت میں کل برآمدات 50.50 بلین ڈالر رہی جو اوسط 21.60 فیصد سالانہ کے حساب سے کم ہورہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ برآمدات اور درآمدات میں تناسب کی شرح 89.30 فیصد ہوگئی ہے جو پچھلے سال اسی عرصے میں 73 فیصد کے قریب تھی۔ پیجان کے مطابق ان تین مہینوں میں تجارتی خسارہ بھی 15.20 بلین ڈالر کم ہوا ہے۔

وزیر تجارت نے یہ بھی بتایا کہ صرف مارچ کے مہینے میں کل ملکی برآمدات 0.5 فیصد اضافے کیساتھ 16.3 بلین ڈالر رہی۔ جبکہ رواں مہینے میں درآمدات 17.8 فیصد کمی کیساتھ 18.30 بلین ڈالر ہوئی۔ یوں ایک مہینے کا تجارتی خسارہ بھی کم ہوکر 1.96 بلین ڈالر تک آگیا ہے۔

اس موقع پر ترکش ایکسپورٹ اسمبلی کے چئیرمین اسماعیل گلی نے بتایا کہ ملک کی برآمدات میں سب سے بڑا کردار آٹو موبائل کے شعبے نے ادا کیا، جس کی شراکت 2.9 بلین ڈالر رہی۔ اسکے بعد کیمیکل 1.8 بلین ڈالر اور گارمنٹس 1.7 بلین ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ میں برآمدات میں اضافے کی بنیاد دفاعی مصنوعات اور جہاز رانی کا شعبہ بنا ۔ یہ برآمدات 221 ممالک میں ہوئیں، جن میں 111 میں اضافے کا رجہان دیکھا گیا۔ ان میں سے 27 ممالک میں برآمدات میں سو فیصد کا اضافہ ہوا۔

ترکی میں اس سال برآمدات کا ہدف 182 بلین ڈالر مقرر کیا گیا تھا، جس میں حکومت کو خاطر خواہ کامیابی ہوتی دیکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایردوان حکومت ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے جس قسم کے ہنگامی اور انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے، اس سے تاجروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اسی سنجیدگی کیساتھ اپنا اصلاحاتی پروگرام جاری رکھے گی تو آئندہ پانچ اور دس سالوں کے لئے مقرر کردہ اہداف باآسانی حاصل کرلئے جائیں گے۔

تبصرے
Loading...