امریکا-ایران تناؤ پر ترکی کا اظہارِ تشویش

0 461

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی جانب سے فضائی حملے میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکا اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ عراق میں بڑھتے ہوئے عداوت مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں مین رکاوٹ ڈالے گا۔ بیان میں امریکا کے حملے کو ایسی حرکت قرار دیا گیا ہے جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تشدد میں اضافہ کرے گی۔

"ترکی ہمیشہ سے خطے میں بیرونی مداخلت، قتل اور فرقہ وارانہ تصادم کا مخالف رہا ہے۔ ہم فریقین سے ضبط کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، ایسے اقدامات سے گریز کریں کہ جن سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو،” بیان میں کہا گیا ہے۔

صدارتی ڈائریکٹر مواصلات فخر الدین آلتن نے کہا کہ سلیمانی کا قتل "علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔”

"فریقین کو کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے کہ جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کرے، جس کا آغاز ہمارے پڑوس میں ہو رہا ہے یعنی عراق میں۔ تشدد مزید تشدد کو بھڑکاتا ہے اور تمام فریقین کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عقلِ سلیم کا استعمال کریں، انہوں نے مزید کہا۔

صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ ترکی سب سے مطالبہ کرتا ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تناؤ میں اضافہ کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انقرہ علاقائی و عالمی امن کے حصول کے لیے سفارت کاری جاری رکھے گا۔

امریکا نے ایران کی اہم قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ایک فضائی حملے میں قتل کر دیا تھا جو جمعے کو علی الصبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تھے۔ اس حملے نے خطے میں تناؤ میں یکدم اضافہ کر دیا ہے۔

ایران کے رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس حملے کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ سلیمانی کا قتل کرنے والے "مجرموں” کا بھیانک انجام قریب ہے اور ان کی موت امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں مزید اضافہ کرے گی۔

ایران نے قاسم سلیمانی کے قتل پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا اور ان کے نائب اسماعیل قاآنی کو قدس فورس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

تبصرے
Loading...