ترکی نے ملازمین کو نکالنے پر پابندی میں 3 ماہ کی توسیع کر دی

0 1,143

وزیرِ محنت و سماجی خدمات زہرا زمرد سلجوق نے کہا ہے کہ ترکی نے ملازمین کو نکالنے پر اپریل میں تین مہینے کی پابندی عائد کی تھی، جس میں اب مزید تین مہینے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ قدم کرونا وائرس کی وباء کی وجہ سے متاثر ہونے والے کاروباروں اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

وزیر محنت نے کہا کہ ملک عارضی تنخواہ کے نظام کو معطل کر دے گا جو پچھلے تین مہینوں سے مؤثر تھا۔ 4 لاکھ افراد نے گزشتہ 10 دنوں میں مختصر مدتی ورک الاؤنس سسٹم کو چھوڑا۔ سسٹم دیگر اضافی ادائیگیوں کی جگہ لے سکتا ہے۔ 35 لاکھ سے زیادہ افراد نے اس سسٹم سے فائدہ اٹھایا۔

زہرا نے کہا کہ ملک میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے اکنامک اسٹیبلٹی شیلڈ کے تحت ایک جامع پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کےتحت اٹھائے گئے اقدامات میں وزارت اب تک 20 ارب ترک لیرا (تقریباً 3 ارب ڈالرز) تک کی سپورٹ فراہم کر چکی ہے جو 60 لاکھ گھرانوں تک پہنچ رہی ہے۔

یہ سوشل سپورٹ تین زمروں میں تھی مختصر مدت کا ورک الاؤنس، بے روزگاری وظائف، نقد سپورٹ اور سوشل پروٹیکشن شیلڈ کے تحت دیگر سماجی فائدے شامل ہیں۔ اپنی ایک ہزار سے زیادہ سماجی مدد کی فاؤنڈیشنز کے ذریعے ترکی ضرورت مندوں تک پہنچا۔ وباء کے دوران حکومت نے کاروبار بند رکھنے والے اداروں کے عملے کی تنخواہوں کا 60 فیصد بھی ادا کیا۔

تبصرے
Loading...