ترک دفاعی برآمدات کی نظریں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان پر

0 233

ترکی پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے برآمدات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

‘ڈیفنس نیوز’ کے مطابق ایک ترک سفارت کار کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے، دوستانہ اور کسی بھی مسئلے سے پاک ہیں، جو ترک اداروں کو اچھی برآمدات کا یقین دلاتے ہیں۔ جیسے جیسے ترک ساختہ ہتھیار میدانِ عمل میں خود کوثابت کرتے رہیں گے، ان ممالک کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔

کیپٹل ایگزیبیشن کے چیئرمین خاقان کورت نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ترک دفاعی و ایروسپیس صنعتوں کے لیے "گرما گرم مارکیٹیں” قرار دیا ۔

کورت نے کہا کہ "ترک اداروں کو اب قابلِ فروخت پلیٹ فارمز کی کمی کا سامنا نہیں ہے جیسا کہ دہائیوں قبل تھا۔” کورت کو توقع ہے کہ ان تین ایشیائی ممالک کو ترک دفاعی اور ایروسپیس برآمدات اگلے 10 سال میں 5 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گی۔

ترکی کی مجموعی دفاعی برآمدات 2019ء کے مطابق 2.74 ارب ڈالرز ہیں، جو 3 ارب کے سرکاری ہدف سے کم ہے۔

انقرہ میں ایک دفاعی ماہر نے کہا ہے کہ "ان ممالک کو ہارڈویئر کی ضرورت ہے۔ ترکی کے ساتھ ان کے سیاسی تعلقات بھی اچھے ہیں۔ لیکن ان کی معیشت بہت مضبوط نہیں ہے۔ پھر مقامی پیداوار کے لیے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کی وجہ سے ممکنہ برآمدات میں لائسنسنگ کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔”

2018ء میں ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (TAI) نے پاکستان کو 30 عدد T129 اٹیک ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کا معاہدہ کیا، جس کی مالیت 1.5 ارب ڈالرز تھی۔ لیکن یہ معاہدہ عملی روپ نہیں دھار سکا کیونکہ TAI اس کے لیے امریکی ایکسپورٹ لائسنس حاصل نہیں کر پایا۔

T129 ایک ٹوئن انجن ملٹی رول اٹیک ہیلی کاپٹر ہے جو اطالوی-برطانوی کمپنی آگسٹا ویسٹ لینڈ کے لائسنس کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ یہ دو عدد LHTEC T800-4A ٹربو شافٹ انجن سے چلتا ہے۔ ہر انجن 1,014 کلوواٹ کی آؤٹ پٹ پاور دے سکتا ہے۔ T800-4A دراصل CTS800انجن کا ایکسپورٹ ورژن ہے۔ اس انجن کو بنانے والی کمپنی LHTEC امریکی ادارے ہنی ویل اور برطانوی کمپنی رولس-رائس کا جوائنٹ وینچر ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو دیے جانے والے ہارڈویئر میں ممکنہ طور پر بحری جہاز اور پٹرول کشتیاں (سوائے افغانستان کے )، اسمارٹ ہتھیار، ڈرونز اور بکتر بند شامل ہوں گی۔

تبصرے
Loading...