صدر ایردوان نے پیرس معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کر دیا

0 112

صدر رجب طیب ایردوان نے پیرس ماحولیاتی معاہدے کو توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔ اسے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ترکی کا ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس امر کا اعلان صدر مملکت نے کچھ روز قبل ہی کر دیا تھا اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس سے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ترکی کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری آئے گی۔

ترکی 2015ء میں پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے اوّلین ممالک میں شامل تھا لیکن ماحولیاتی حوالے سے مختلف ممالک میں فرائض کی تقسیم میں ناانصافی پر اعتراضات کیے تھے اور یہی وجہ تھی کہ اب تک معاہدے کی توثیق کا عمل شروع نہیں کیا گیا تھا۔

ماحولیاتی تبدیلی، ترکی کی ایک بڑی جھیل مکمل طور پر خشک ہو گئی

پیرس معاہدے پر 175 دیگر ممالک نے بھی 2015ء میں دستخط کیے تھے جبکہ یہ 2016ء میں لاگو ہوا تھا البتہ اس نفاذ پر عمل درآمد نہیں ہو پایا تھا کیونکہ ترکی کے علاوہ عراق، ایران، لیبیا اور یمن جیسے ممالک کو بھی معاہدے کے تحت ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، یعنی انہیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے عہد میں زیادہ مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ انقرہ کہتا ہے کہ یہ ایک نامناسب قدم تھا کیونکہ ترکی ایک ترقی پذیر ملک ہے۔

حکام کے مطابق اس معاہدے سے ترکی کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اس سے ملک کو ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانے کی تحریک ملے گی۔

ترکی کے وزیر ماحولیات و شہری منصوبہ بندی مراد قورم نے کہا ہے کہ یہ محض ایک معاہدے پر دستخظ نہیں ہیں۔ اس کے ذریعے ہم زراعت، سیاحت اور صنعت سمیت تمام شعبوں میں ماحول دوست اقدامات اٹھائیں گے۔

وہ نومبر میں گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں طے شدہ موسمیاتی تبدیلی پر کانفرنس (COP26) سے قبل اٹلی کے شہر میلان میں ہونے والے اقوام متحدہ کے تیاری اجلاس کے موقع پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 2053ء تک گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج صفر کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیرس معاہدہ معیشت کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اس ضمن میں ہمارے اٹھائے گئے اقدامات کو بین الاقوامی برادری نے بھی سراہا ہے۔

تبصرے
Loading...