ترکی کی جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، کُردوں کے خلاف نہیں، ایردوان

0 1,679

رپورٹ: دِلارا فرقان
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ شمالی شام میں ترکی کا حالیہ آپریشن کردوں کے خلاف نہیں، بلکہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ شمالی عراق و شام میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، جن میں گزشتہ بدھ کو شروع ہونے والا آپریشن چشمہ امن اور اس موسمِ گرما میں شمالی عراق میں شروع کیا گیا آپریشن کلا شامل ہیں – کا ہدف کبھی بھی دوسرے ملکوں کی علاقائی سالمیت نہیں رہا۔

"ترکی اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دریائے فرات کے مشرقی علاقے کو دہشت گرد گروپوں سے خالی کرکے شامی باشندوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے گا جیسا کہ اس نے دریائے فرات کے مغربی علاقے میں کیا،” صدر نے 2016ء سے جاری انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن چشمہ امن کا ہدف شام کی تقسیم نہیں بلکہ شمالی شام کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہے – جن میں عرب، کرد، یزیدی، کلدانی سب شامل ہیں۔

ترکی نے گزشتہ بدھ کو شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تاکہ اپنی سرحدوں کے ساتھ واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر سکے اور اس کے بعد شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائے۔

انقرہ خطے سے PKK اور اس کی شامی شاخ PYD/YPG کے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ چاہتا ہے۔

گزشتہ 30 سالوں میں یہ دہشت گرد گروپ ترکی میں 40 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بنے ہیں جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیر خوار تک شامل ہیں۔ ان میں سے PKK کو ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین بھی دہشت گرد مانتے ہیں۔

2016ء سے ترکی شمال مغربی شام میں دو بڑے فوجی آپریشنز کر چکا ہے – آپریشن فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون – تاکہ علاقے کو داعش اور PYD/YPG کے دہشت گردوں سے خالی کر اسکے۔

27 مئی کو انقرہ نے شمالی عراق میں PKK کے خلاف آپریشن کلا کا آغاز کیا جس کے بعد جولائی اور اگست کے اواخر میں اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔

ترکی کی قومی سلامتی کونسل نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ آپریشن شمالی عراق کو PKK دہشت گردوں سے پاک کرنے تک جاری رہے گا تاکہ دونوں ملکوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

بشکریہ: انادولو ایجنسی

تبصرے
Loading...