ترکی کی روس اور یوکرائن کے مابین مصالحاتی کوشش شروع

0 1,058

صدر رجب طیب ایردوان نے 20 جنوری کو کہا کہ ثالثی کی کوششوں کے دائرہ کار میں، ہم نے روس کے صدر ولادی دمیر پوتن اور یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے موضوع پر آمنے سامنے ملاقات کرنے کے لیے ترکی میں مدعو کیا ہے۔

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "”ہم روس اور یوکرین کے درمیان پیش رفت کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایک ایسی صورت میں جب خطے میں جنگ کا ماحول ہے یا پھر اس طرح کی نفسیات کا ابھرنا ہمیں پریشان کرتا ہےکیوں کہ ہم ایسا ملک ہیں جس کے دونوں فریقوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں”۔

"ہم امید کرتے ہیں کہ مسٹر پوتن اور زیلنسکی کو جلد از جلد اکٹھا کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی آمنے سامنے ملاقات ہو،” صدر ایردوان نے کہا کہ وہ فروری کے شروع میں یوکرائن کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری خواہش ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔”

نامعلوم ترک سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ ترکی، یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم (OSCE) کے منسک گروپ کا اگلا اجلاس استنبول میں منعقد کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو یوکرائن اور روس کے درمیان ہو گا۔

ذرائع نے بتایا کہ سہ فریقی رابطہ گروپ کے اجلاس میں روس، یوکرین، او ایس سی ای اور ڈان باس تنازعہ والے علاقے کے نمائندے شامل ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ دونوں فریق "ترکی کی ثالثی کے لیے پرجوش ہیں”، انقرہ نے مزید کہا کہ "تناؤ کو کم کرنا، تنازعات سے گریز کرنا اور بات چیت کو بڑھانا” ان کا ہدف ہے۔

ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا کہ یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی جاری ہے، اس تنازعہ میں نیٹو بھی شامل ہے، ترکی تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم ان مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی امید کرتے ہیں۔”

یوکرائن 2014ء سے روس کی سرحد سے متصل دو الگ الگ علاقوں میں ماسکو کی حامی شورش کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ شورش اس وقت پیدا ہوئیں جب روس نے یوکرین کے جزیرہ نما کریمیا کا اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔ مشرقی یوکرین میں جاری اس تنازع میں اب تک 13000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین نے 22 دسمبر 2021ء کو کہا تھا کہ روس اور یوکرین نے جنگ بندی کی بحالی پر اتفاق کیا ہے تاہم اگلے ہی دن یوکرائن اور علیحدگی پسندوں نے ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا دیا۔

دوسری طرف روس، ترکی کی جانب سے یوکرائن کو ہتھیاروں کی فروخت پر بے چینی کا شکار ہے، روسی وزیر خارجہ سے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ یوکرین ڈونباس کے شورش زدہ علاقے میں ترک ساختہ ڈرون استعمال کر رہا ہے۔ تاہم ترکی اور روس کے درمیان اس معاملے پر براہِ راست کوئی تناؤ موجود نہیں ہے۔

روسی صدر پوتن کی جانب سے ایردوان کو نئے سال کی مبارک باد

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: