انگیلا مرکیل کا دورۂ ترکی اور رجب طیب ایردوان سے الوداعی ملاقات

0 97

انگیلا مرکیل کے الوداعی دورۂ ترکی کا آغاز ایک باوقار استقبالیہ کے ساتھ ہو گیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے ہفتے کو استنبول میں جرمن چانسلر کا خیر مقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دہائیوں کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی اور دو طرفہ تعلقات، علاقائی مسائل، ہجرت اور ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے عمل پر بات چیت کی۔

ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے شہر کے ایک ساحلی علاقے میں صحافیوں اور شہریوں کے ساتھ بات چیت کی۔ بعد ازاں دونوں کی ملاقات ظہرانے پر بھی ہوئی۔ جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس صدر ایردوان نے مرکیل اور ان کی وفد کی میزبانی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ "ہمارے تعلقات باہمی احترام کے جذبے پر مبنی ہیں، جس کا آغاز 2005ء میں مرکیل کے چانسلر بننے کے بعد سے ہوا۔” ان 16 سالوں میں مختلف ملاقاتوں کے دوران جرمن چانسلر نے خود کو ہمیشہ ایک زیرک رہنما ثابت کیا۔

صدر نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یورپی یونین میں آنے والے مختلف بحرانوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر بھی مرکیل کو سراہا۔ "علاقائی مسائل کے حل کے لیے بھی مرکیل نے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ فیصلہ کرنے اور ذمہ داری لینے سے کبھی نہیں گھبراتی جیسا کہ شام سے نکلنے والے مہاجرین کے مسئلے کو حل کرنے سے لے کر وہاں انسانی امداد پہنچانے تک کا کام۔ میں شامی بحران میں نمایاں کردار ادا کرنے پر اپنی قوم کی جانب سے چانسلر صاحبہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔”

صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئی حکومت میں بھی دونوں ملکوں کے تعلقات ایسے ہی برقرار رہیں گے۔ جرمنی میں ستمبر کے اواخر میں عام انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد حکومت کی تشکیل کا کام جاری ہے۔

صدر نے کہا کہ جرمنی میں مقیم ترک برادری ہمارا یکساں اثاثہ ہے، جو ہمارے تعلقات کا اہم سماجی پہلو ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی دوستی میں مرکیل کا کردار جاری رہے گا۔

صدر نے مزید کہا کہ بد قسمتیسے نسل پرستی، اسلاموفوبیا، زینوفوبیا، امتیازی سلوک اب بھی یورپ میں مقیم ترک برادری کے لیے بنیادی مسائل ہیں۔

انقرہ اور برلن ایک تجارتی شراکت دار بھی ہیں، جرمنی ترکی کے لیے برآمدات اور درآمدات کا اہم مرکز ہے۔ دونوں ممالک گہرے ثقافتی تعلقات بھی رکھتے ہیں اور تقریباً 50 لاکھ ترک جرمنی میں رہتے ہیں جبکہ ترکی جرمن سیاحوں کے لیے مقبول ترین مقام بھی ہے جبکہ لاکھوں جرمن تارکینِ وطن یہاں مقیم بھی ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے مذاکرات میں ہجرت کا مسئلہ، انسانی حقوق اور نیٹو میں ترکی کے کردار اہم موضوعات ہیں۔ ترکی مہاجرین کو قبول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ملک اس وقت شام سے آنے والے 37 لاکھ مہاجرین کا میزبان ہے جبکہ افغانستان سمیت دیگر ممالک سے آنے والے لاکھوں مہاجرین بھی یہاں مقیم ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے مہاجرین کے معاہدے میں مرکیل کا کردار بنیادی نوعیت کا تھا۔ اس معاہدے کے تحت شامیوں کی میزبانی پر ترکی کو مالی مدد بھی فراہم کی گئی۔ یورپی یونین ترکی کو مزید 3 ارب یوروز دینا چاہتا ہے، جو افغان مہاجرین کی مدد کے لیے ہیں۔ لیکن صدر ایردوان نے بارہا کہا ہے کہ ان کا ملک مزید مہاجرین کو قبول نہیں کرے گا۔

تبصرے
Loading...