ترکی اور یونان کشیدگی گھٹانے کے لیے مذاکرات پر رضامند ہو گئے ہیں، نیٹو

0 195

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ترکی اور یونان نے مشرقی بحیرۂ روم میں "کشیدگی کم کرنے کا میکانزم” تشکیل دینے کے لیے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

ایک ٹوئٹ میں سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ ان کی دونوں ملکوں کے رہنماؤں سے بات ہوئی ہے اور وہ خطے میں کسی واقعے یا حادثے کو خطرے کو گھٹانے کے لیے نیٹو میں تکنیکی مذاکرات کریں گے۔

سٹولٹن برگ نے فوجی اتحاد کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں دونوں ملکوں کے مابین سفارتی سطح پر مذاکرات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "یونان اور ترکی قابلِ قدر اتحادی ہیں، اور نیٹو ہماری مشترکہ سلامتی کے حوالے سے تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے۔ میں نیٹو کی روح کے مطابق کشیدگی کو گھٹانے کے لیے تمام متعلقہ اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔”

ترک وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ انقرہ "نیٹو کے سیکریٹری کی جانب سے مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی گھٹانے کے منصوبے” کی حمایت کرتا ہے۔

ایک بیان میں وزارت نے کہا ہے کہ یہ قدم دونوں نیٹو اتحادیوں کے مابین عسکری-تکنیکی مذاکرات کے آغاز کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "کشیدگی کو گھٹانے کے لیے مذاکرات کا ہدف دو طرفہ مسائل حل کرنا نہیں، بلکہ اس کا تعلق عسکری حکام کے مابین پہلے سے طے شدہ معاملات ہیں۔”

ترک وزارت خارجہ نے زور دیا کہ وہ ایتھنز سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی اس منصوبے کی حمایت کرے گا اور اعادہ کیا کہ انقرہ "یونان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ تمام مسائل کا بین الاقوامی قانون کے مطابق اور شفاف اور منصفانہ انداز میں مستقل حل تلاش کیا جائے۔”

البتہ یونان نے اس امر کی تردید کی ہے کہ اس نے نیٹو کے تحت ترکی کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

یونانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ "یہ اطلاعات کہ یونان اور ترکی نے مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی گھٹانے کے لیے ‘تکنیکی مذاکرات’ پر رضامندی ظاہر کی ہے، حقیقت نہیں ہیں۔”

یونان مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی قدرتی وسائل کی تلاش کو متنازع قرار دیتا ہے اور ترکی کے ساحلوں کے ساتھ موجود اپنے چھوٹے جزیروں کو بنیاد بناتے ہوئے ترکی کی سمندری حدود کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترکی جو بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھتا ہے، نے اپنے براعظمی کنارے پر تیل و گیس کی تلاش کے لیے بحری جہاز بھیجے ہیں، اور اس کا کہنا ہے کہ خطے پر انقرہ اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا حق ہے۔

جرمنی کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے بعد ترکی نے خطے میں تلاش کا کام روک دیا تھا۔ البتہ یونان اور مصر کے مابین متنازع بحری حدود کے معاہدے کے بعد ترکی نے ایک مرتبہ پھر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

انقرہ نے کہا ہے کہ جزیرہ قبرص کے گرد موجود قدرتی وسائل ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور یونانی قبرص کے مابین منصفانہ انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔

تبصرے
Loading...