ڈرون حملہ کرنے والے "شر انگیز” کو جانتے ہیں، کون ہے، پوٹن کی ایردوان کو فون کال

0 28,614

روسی صدر ولادیمر پوٹن نے ترک ہم منصب کو بتایا ہے کہ وہ اس "شر انگیر” کو جانتے ہیں جو شام میں روسی اڈے پر ڈرون حملے کی پشت پر موجود ہے۔

پوٹن کی طرف سے کی گئی کام میں انہوں نے واضع کیا کہ ان ڈرون حملوں سے ترکی کا کوئی واسطہ نہیں جنہوں نے فوجی اڈے پر حملہ کیا۔

اس سے قبل روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ شام میں قائم روسی فضائی اور بحری اڈے پر حملہ کرنے والے ڈرون طیارے ان علاقوں سے لانچ کئے گئے تھے جو "معتدل اپوزیشن” کے کنٹرول میں ہیں۔ واضع رہے کہ ترکی معتدل اپوزیشن کی پشت پناہی کرتا ہے۔

وزارت نے ترکی عسکری سربراہاں کو خط لکھا تھا کہ ترکی اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے اپنے زیر کنٹرول مسلح قوتوں کی اشتعال انگیر سرگرمیوں کو روکے اور ادلب کے محفوظ علاقہ میں مبصر تعینات کرے تاکہ ایسا مسلحہ حملوں کو روکا جا سکے۔

شام میں حمیمیم ائیر بیس پر قائم روسی فوجی تنصیب پر 13 ڈرون طیاروں نے حملہ کیا لیکن کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

"معتدل اپوزیشن” کے زیر کنٹرول ادلب پر بشار الاسد رجیم کی طرف سے بمباری پر ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے بدھ کے روز روس اور ایران پر زور دیا تھا کہ وہ شام پر بطور ضامن اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اسد رجیم کی خلاف ورزیاں رکوائیں۔

چاوش اولو نے کہا تھا کہ روس اور ایران کے پاس رجیم کے ان حملوں کا کوئی بہانہ نہیں۔ اور یہ خلاف ورزی دونوں ممالک کی حمایت نہیں ہو سکتی۔

دسمبر 2016ء میں آستانہ اجلاس کے بعد ترکی اور روس نے ایران کے ساتھ مل کر ایک سیز فائر معاہدہ کی ضمانت دی تھی۔

ستمبر میں سہہ فریقی منصوبہ کے تسلسل میں شامی صوبہ ادلب کو چوتھا بفر زون بنایا گیا تھا جسے تینوں ممالک مانیٹر کریں گے تاکہ شامی بحران کو حل کی طرف لایا جائے جس میں لاکھوں معصوم لوگ زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...