ترکی نے ہر مسئلے کو سفارت کاری، مذاکرات اور گفتگو کے حل کرنے کا اصول اپنا رکھا ہے، صدر ایردوان

0 127

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ” باہمی مفاہمت کی بنیاد پر ہر مسئلے کو سفارت کاری، مذاکرات اور گفتگو کے حل کرنے کا اصول اپنا رکھا ہے۔ یوں ہم نے شام سے درپیش خطرات کے حوالے سے بھی تمام امکانات کا اندازہ لگا لیا ہے۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا۔

"ترکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی لڑائی لڑی اور بڑی کامیابیاں حاصل کیں”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی وہ ملک ہے کہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی لڑائی لڑی اور سب سے زیادہ نقصان اٹھایا لیکن اسی دوران اس نے عظیم ترین کامیابیاں حاصل کیں۔ PKK دہشت گرد تنظیم 1984ء سے ہماری ریاست اور عوام پر حملہ آور ہے۔ ہمارے سرکاری اہلکاروں سمیت لاکھوں معصوم شہری، جن میں ہر عمر کے بچے بلکہ گہوارے میں موجود بچے تک اپنی ماؤں کے ساتھ ان کے حملوں میں مارے گئے۔ افواج کے ہزاروں اراکین اس جدوجہد میں شہید کی موت سے ہمکنار ہوئے۔ دہشت گردوں کا نقصان بلاشبہ ہم سے زیادہ تھا لیکن اپنوں کو کھونے کا غم اب بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "اس سے پہلے اسالا دہشت گرد تنظیم نے دنیا بھر میں ہمارے سفارت خانوں پر تقریباً 100 حملے کیے اور تقریباً 40 ترک سفارت کاروں کو شہید کیا۔ اسی طرح ہم نے 1970ء کی دہائی میں دہشت گردی کے واقعات میں سنگین نقصانات اٹھائے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی کے خلاف ترکی کےطویل اور انتہائی مہنگے عمل کو اُن حلقوں کی جانب سے ایک کارآمد ذریعہ سمجھا گیا کہ جو ہمارے ملک کے خلاف خفیہ ارادے رکھتے تھے۔”

"ہمیں سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنا ہوگا کیونکہ بظاہر ہمارے اتحادی ممالک ہی دہشت گردوں کے ساتھ ہیں، ہمارے ساتھ نہیں”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے باہمی احترام اور مفاہمت کی بنیاد پر سفارت کاری، مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے ہر مسئلے کو حل کرنے کو اپنا اصول بنا رکھا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "یوں ہم نے شام سے درپیش تمام خطرات کے حوالے سے بھی نئے امکانات کا اندازہ لگایا۔ انہوں نے FETO اور PKK سمیت ہر طریقے سے ترکی کو اس داعش سے جوڑنے کی کوشش کی کہ جس کا سب سے بڑا نشانہ خود ترکی رہا ہے۔ ہم نے واضح اور مخلصانہ انداز میں ردعمل دکھایا کہ جسے نادان ترین شخص بھی سمجھ سکتا ہے۔ تو انہوں نے ہماری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کو انسانی حقوق کا معاملہ بنا دیا۔ ہم نے ایک مرتبہ پھر شفقت کے ذریعے جواب دیا تو انہوں نے مہاجرین کے مسئلے کے حوالے سے ترکی پر الزامات تک لگا ڈالے کہ جو اس وقت 40 لاکھ مہاجرین کا بوجھ تنِ تنہا سنبھالے ہئے ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہم نے اپنی پوزیشن پر کوئی سودا کیے بغیر جواب دیا۔ جس پر انہوں نے ہماری جنوبی سرحدوں پر دہشت گردوں کے ٹھکانے بنا ڈالے پہلے داعش کے ہاتھوں اور جب ناکام ہوئے تو PKK/YPG کے ذریعے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہمیں سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنا ہوگا کیونکہ بظاہر ہمارے اتحادی ممالک ہی دہشت گردوں کے ساتھ ہیں، ہمارے ساتھ نہیں۔”

تبصرے
Loading...