‏ترکی S-400 سسٹم پہلے ہی خرید چکا ہے، ایردوان

0 401

صدر رجب طیب ایردوان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ترکی پہلے ہی روسی ساختہ S-400 خرید چکا ہے اور میزائل سسٹم اگلے ماہ فراہم کردیا جائے گا اور اعادہ کیا کہ ماسکو کے ساتھ کیا گیا معاہدہ واپس نہیں ہوسکتا۔

انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی)کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ترکی S-400 خریدے گا، یہ پہلے ہی خرید چکا ہے۔ ہم معاہدے پر مہر ثبت کر چکے ہیں۔”

صدر نے یاد دلایا کہ ماسکو کے ساتھ S-400 معاہدہ پرکشش تھا صرف قیمت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کے امکانات کی بدولت بھی۔

اس خریداری کی وجہ سے امریکا کی جانب سے ایف-35 پروگرام میں انقرہ کی شمولیت ختم کرنے کے منصوبے پر ایردوان نے کہا کہ ترکی صرف خریدار نہیں بلکہ ایک پیداواری شراکت دار بھی تھا جس نے منصوبے میں 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔

"ہم رواں مہینے کے اختتام پر جاپان میں صدر (ڈونلڈ) ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں پہلے ہی ملاقاتیں طے شدہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان معاملات پر باہمی مذاکرات ہوں گے۔” انہوں نے کہا۔

پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے ترکی کو بتایا کہ اگر ترک حکومت روسی میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے منصوبے پر قدم آگے بڑھاتی ہے تو انہیں ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت بند کردی جائے گی، جس نے دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان طویل اور گرماگرم تنازع کو مزید ہوا دے دی۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شیناہن نے ایک دو صفحات کے خط میں کہا کہ شامل ترک پائلٹوں کی تربیت 31 جولائی کو ختم ہو جائے گی اور ترکی کو خریدے گئے چار F-35 پائلٹوں کی حتمی فراہمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ شیناہن نے انقرہ کو روسی سسٹم خریدنے پر خبردار بھی کیا جو مستقبل میں امریکا کے ترکی کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ ترکی امریکا کا اہم شراکت دار ہے اور شام میں جنگ سمیت مختلف جنگی آپریشنز کے لیے اڈے رکھتا ہے۔

شیناہن نے خبردار بھی کیا کہ ایف-35 پروگرام میں ترکی کی شمولیت کے خاتمے کے فیصلے کے بعد دیگر امریکی اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں، جن میں کانگریس کے اراکین ترکوں پر پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کی ترکی کے ساتھ امریکی تجارت کو تین گنا کرنے کے عہد کے لیے خطرہ ہو سکتی ہی۔

شیناہن اور دیگر امریکی دفاعی حکام نے زور دیا کہ یہ فیصلے ناقابلِ واپسی نہیں ہیں اور اگر ترکی روسی سسٹم واپس کرتا ہے تو حالات معمول پر آ سکتے ہیں۔

وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے بدھ کو کہا تھا کہ شیناہن کی جانب سے بھیجا گیا خط "اتحاد کی روح کے خلاف” تھا، اور کہا کہ ترکی اس کا جواب تیار کر رہا ہے۔

تبصرے
Loading...