ترکی وہ ملک بن چکا ہے کہ ہر ملک تقریباً تمام علاقائی و عالمی مسائل حل کرنے کے لیے اس سے مشاورت یا تعاون چاہتا ہے، صدر ایردوان

0 1,193

صدارتی نظامِ حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم نے 2018ء میں 16 ممالک کے، 2019ء میں 14 اور 2020ء میں 10 ممالک کے 47 الگ، الگ دورے کیے۔ اس عرصے کے دوران ہم نے 98 مہمان سربراہانِ مملکت و حکومت کی میزبانی کی اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ 366 فون گفتگوئیں بھی کیں۔ ترکی وہ ملک بن چکا ہے کہ ہر ملک تقریباً تمام علاقائی و عالمی مسائل حل کرنے کے لیے اس سے مشاورت یا تعاون چاہتا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی نظامِ حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر جائزہ اجلاس سے خطاب کیا۔

"صدارتی نظامِ حکومت وہ واحد سرکاری اصلاح ہے جو عوام کی مرضی سے براہِ راست نافذ کی گئی”

صدر ایردوان نے کہا کہ "صدارتی نظامِ حکومت وہ واحد سرکاری اصلاح ہے جو ہمارے جمہوریت کے تقریباً 200 سال میں عوام کی مرضی سے براہِ راست نافذ کی گئی۔ دیگر تمام تبدیلیاں یا تو جنگ کے ماحول میں ہوئیں یا غیر معمولی حالات میں۔ جمہوریت اور جمہوریہ کی روح کے مطابق اس اصلاح کے مالک خود عوام ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران ہم نے جو کچھ کیا وہ محض اس سمت کا رخ کرنا ہے کہ جو عوام نے ہمیں دکھائی۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں یہ بات اپنے ذہن سے کبھی نہیں نکالنی چاہیے کہ اصل بات سلطان محمد فاتح کے الفاظ میں اس ملک کو بہتر بنا کر اس کے عوام کے دل جیتنا ہے، کہ جو سلطان البرّین و سلطان البحرین کہلاتے تھے۔ اسی کی تلاش میں ہم نے آیا صوفیا کو عجائب گھر سے ایک مرتبہ پھر مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، سلطان محمد فاتح کے ارادوں کے عین مطابق۔ ترکی اپنے تمام اقدامات بین الاقوامی معاہدوں اور وطن میں ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں اٹھاتا ہے اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے حقوق کا استعمال کرتا ہے۔ ہم ان چند ملکوں میں سے ایک ہیں کہ جن کے دامن پر تاریخ میں نو آبادیات اور قتلِ عام کا کوئی الزام نہیں۔ اس فخر کے ساتھ ہم ایسے ملک کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے کہ جو دوسروں کے حقوق پر نظر نہیں رکھتا لیکن اپنے جائز حقوق ضرور لیتا ہے۔ ہم انصاف، قانون، سلامتی، امن اور خوشحالی، مختصر یہ کہ تمام انسانی خاصیتوں کے ساتھ خود کو ممتاز رکھیں گے۔ اپنے اب تک اٹھائے گئے تمام اقدامات سے ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم دوسروں کی سرزمین، سالمیت اور خاص طور پر قدرتی وسائل کے خلاف کوئی سازش نہیں کرتے۔ بلاشبہ یہ رویہ ذاتی پسند و ناپسند، گھٹیا مول تول اور اپنے فائدے کے لیے حق سے پیٹھ پھیرنے کی کوئی جگہ نہیں چھوڑتا۔ ہم نے اب تک یہی رویہ اختیار کیا ہے اور مستقبل میں بھی اپنے بااصول، لائقِ تعظیم، انسانی اور دیانت دارانہ رویے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔”

صدر ایردوان نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم نے 2018ء میں 16 ممالک کے، 2019ء میں 14 اور 2020ء میں 10 ممالک کے 47 الگ، الگ دورے کیے۔ اس عرصے کے دوران ہم نے 98 مہمان سربراہانِ مملکت و حکومت کی میزبانی کی اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ 366 فون گفتگوئیں بھی کیں۔ ترکی وہ ملک بن چکا ہے کہ ہر ملک تقریباً تمام علاقائی و عالمی مسائل حل کرنے کے لیے اس سے مشاورت یا تعاون چاہتا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے تو ہم نے 2018ء اور 2019ء میں 2.3 ٹریلین ترک لیرا تک پہنچے۔ 309.5 ارب لیرا پبلک انوسٹمنٹ اور 2 ٹریلین پرائیوٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری ہے۔”

"ہم نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے”

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "پچھلے 2 سالوں میں ہم نے دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے ‏PKK علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے خلاف 2,34,000 کارروائیاں جن میں 2,24,000 دیہی اورر 10,000 سے زیادہ شہری علاقوں میں کی گئی کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں ہم نے 2,354 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا، جن میں 950 مارے گئے، 732 زخمی ہوئے اور 672 دیگر نے ہتھیار ڈالے۔ اپنی کوششوں کے ذریعے ہم نے 530 دہشت گردوں کو دہشت گرد تنظیم کے جبڑوں سے نکالا۔ اس طرح ہماری سرحدوں کے اندر دہشت گردوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے 400 کے لگ بھگ رہ گی۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں ہم نے ‏PKK کے تقریباً 400 حملوں کو ناکام بنایا۔ ‏FETO کے خلاف جنگ میں کہ جو ہمارے ملک و قوم کے خلاف حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی غداری کے مرتکب ہیں، خاص طور پر 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے، ان کے خلاف ہم نے 17,000 کارروائیاں کیں۔ ہم نے بڑی حد تک ‏FETO کے سارے نیٹ ورکس کا خاتمہ کر دیا ہے، افسر شاہی سے لے کر کاروباری دنیا تک میں، اور اب بھی ان کے باقی ماندہ افراد سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم نے داعش اور القاعدہ کے خلاف مقامی سطح پر 2,652 کارروائیاں کیں، 635 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا اور 5 حملے ناکام بنائے۔ الحمد للہ، داعش 2017ء کے آغاز سے اب تک ہمارے ملک میں کوئی حملہ نہیں کر پائی۔ منشیات کے خلاف جنگ میں ہم نے گزشتہ دو سالوں میں 3,64,346 کارروائیاں کی ہیں۔ ہم منشیات کے ڈيلروں کو چھوٹ نہیں دے سکتے ہیں کہ ہمارے شہریوں خاص طور پر نوجوانوں کی رگوں میں زہر گھولیں۔

"ہم نے ہر شعبے میں اپنی فوج کو مضبوط کیا ہے”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "قومی دفاع میں ہم نے فوج کے تمام شعبوں کو مزید مصبوط بنایا ہے، جو ملک اور قوم کی امن و سلامتی کے لیے شبانہ روز کام کر رہی ہے۔ آپریشن شاخِ زیتون اور چشمہ امن کے ساتھ ساتھ فرات شیلڈ کے ذریعے ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے جو ہماری جنوبی سرحد کے ساتھ قائم ہورہے تھے۔ ہم نے عراقی سرحد سے اپنے ملک میں دہشت گردوں کے داخلے کے راستے مسدود کرنے کے لیے سیف زون بنائے ہیں۔ یوں ہم نے اپنے ملک کے خلاف دہشت گردی کے خطرے کو کافی کم کیا۔ معاہدوں کے ذریعے ہم نے لیبیا میں قانونی حکومت کو سپورٹ کیا۔ طرابلس کو زد پر رکھنے والے باغیوں کو واپس دھکیل کر ہم نے لیبیا کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا اور ایک امید بھرے مستقبل کی جانب سفر میں ان کی مدد کی۔ ہماری عظیم فوج نے افغانستان سے کوسوو، صومالیہ سے قطر تک کئی مقامات پر امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔”

"ہم دفاعی صنعت میں غیر ملکی انحصار کو تقریباً 70 فیصد سے 30 فیصد تک لے آئے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم دفاع کے شعبے میں دیگر ممالک پر انحصار کو تقریباً 70 فیصد سے گھٹاکر لگ بھگ 30 فیصد تک لے آئے ہیں۔ اس شعبے میں 2002ء میں 5.5 ارب ڈالرز کے بجٹ کے 62 دفاعی شعبے ترکی کے پاس تھے جو اب 60 ارب ڈالرز کے بجٹ کے ساتھ 700 تک ہو چکے ہیں۔ اسی دوران دفاعی صنعت میں کام کرنے والے ترک ادارے 56 سے 1500 تک پہنچے، جبکہ شعبے کی آمدنی 1 ارب سے 11 ارب ڈالرز تک پہنچی۔ یہی تصویر ہماری برآمدات سے بھی نظر آتی ہے۔ 18 سال پہلے ترکی کی دفاعی و فضائی برآمدات محض 248 ملین ڈالرز تھی جبکہ اب یہ ہندسہ 3 ارب ڈالرز کو عبور کر چکا ہے۔ اس وقت ترکی کے پانچ ادارے دنیا کی ٹاپ دفاعی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں جو ہماری کامیابی کی جانب اشارہ ہے۔”

"ہم نے اپنی برآمدات کو 2002ء میں 36 ارب ڈالرز سے 5 گنا بڑھا کر 2019ء میں 180.8 ارب ڈالرز تک پہنچایا”

"تجارت کے شعبے میں ہم نے ایسی حکمت عملی کو اپنایا جو برآمدات کو سپورٹ کرے، درآمدات کو گٹھائے اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کو خسارے سے منافع میں لائے۔ اس ضمن میں ہم نے اپنی برآمدات کو 2002ء میں 36 ارب ڈالرز سے 5 گنا بڑھا کر 2019ء میں 180.8 ارب ڈالرز تک پہنچایا۔ پچھلے 2 سالوں میں ہم نے 346.4 ارب ڈالرز کا کُل برآمدی حجم حاصل کیا۔”

تبصرے
Loading...