ترکی مختلف محاذ صرف اپنا حق حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے بھی کھول رہا ہے، صدر ایردوان

0 223

کالیون ہولڈنگز پی وی ماڈیول فیکٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی مشرقی بحیرۂ روم سے لے کر لیبیا تک مختلف محاذ صرف اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے بھی کھول رہا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں کالیون پی وی ماڈیول فیکٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

"ہم مشرقی بحیرۂ روم میں سیورے جیسے کسی بھی قدم کے سامنے نہیں جھکیں گے”

صدر ایردوان نے توانائی کے سلسلے میں دوسرے ممالک پر انحصار کو ختم کرنے کے لیے مشرقی بحیرۂ روم میں حقوق کے لیے تحفظ کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت پر توجہ دلائی اور کہا کہ”ترکی مشرقی بحیرۂ روم سے لے کر لیبیا تک مختلف محاذ صرف اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے بھی کھول رہا ہے۔” اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے جس طرح ایک صدی پہلے معاہدہ سیورے کو مسترد کیا تھا، آج بھی سیورے جیسے اقدامات کے سامنے نہیں جھکے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "اگر ہم اس معاملے پر کسی غنڈہ گردی کو برداشت کرتے ہیں، اس کے باوجود کہ ہم 100 فیصد ٹھیک ہیں، تو آئندہ نسلیں کو ہمارے نام سے بھی شرمندگی ہو گی۔”

میثاقِ ملّی کی سرحدوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی کی وجہ سے ماضی میں ادا کی گئی بھاری قیمت اور جزائر کے مسئلے کے حوالے سے دکھائی گئی بزدلی کو یاد کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے نہ صرف وہ علاقے کھوئے کہ جن کے لیے سینکڑوں جانیں دی گئی، بلکہ جنوب میں موجود بڑے قدرتی وسائل سے بھی محروم کر دیے گئے۔ ہمیں بحیرۂ ایجیئن اور بحیرۂ روم میں عرصے سے جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ اُس وقت اٹھائے گئے غلط اقدامات ہیں۔”

"ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے حقوق کے تحفظ کا عزم رکھتا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی آخر تک مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ کوئی نوآبادیاتی طاقت، کوئی دھمکی ہمارے ملک کو اُن تیل و گیس کے ذخائر سے محروم نہیں کر سکتی کہ جو ممکنہ طور پر اس علاقے میں موجود ہیں۔ ہم کسی کے حقوق غصب نہیں کرنا چاہتے۔ ہم بحیرۂ روم میں کوئی کشیدگی، کوئی تناؤ نہیں چاہتے۔ ہم صرف اپنی قوم اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم سے مذاکرات کرنے والے بھی ایسے اقدامات اٹھائیں گے جو کشیدگی کو کم کریں، بڑھائیں نہیں، اور مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔”

تبصرے
Loading...