ترکی اپنی بھلائی کے لیے آئی ایم ایف کا باب بند کر چکا ہے، رجب طیب ایردوان

0 2,450

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کی پارلیمانی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ترکی نے اپنی ہی بھلائی کے لیے مئی 2013ء میں آئی ایم ایف کا باب بند دیا تھا اور اب اسے کبھی نہیں کھولے گا۔ حتی کہ اب اس بارے میں بات کرنا جس نے ہم دوبارہ افریقین، ایشین اور ساؤتھ امریکن ممالک کی سطح پر گر جائیں، ترکی سے غداری کی علامت ہو گا”۔

ترکی کی معاشی دائرہ میں جنگ اس کا ملی کاز ہے

ترکی کی معاشی دائرہ میں جنگ اس کا ملی کاز ہے، ترک صدر نے واضع کرتے ہوئے کہا، "ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو اس قوم کا رکن سمجھتا ہے اسے اس جنگ میں ہماری حمایت کرنا چاہئے۔ درحقیقت سیاسی خیالات سے بالاتر ہو کر ہمیں ایسے قومی اور اندرونی حلقوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے”۔

انہوں نے وہ وقت یاد لاتے ہوئے جب آئی ایم ایف کو قرضہ چکایا گیا اور ملک میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی، ترک صدر ایردوان نے کہا، "ترکی نے مئی 2013ء میں آئی ایم ایف کا باب بند دیا تھا اور اب اسے کبھی نہیں کھولے گا۔ حتی کہ اب اس بارے میں بات کرنا جس نے ہم دوبارہ افریقین، ایشین اور ساؤتھ امریکن ممالک کی سطح پر گر جائیں، ترکی سے غداری کی علامت ہو گا”۔

انہوں نے کہا، "ترکی کا مستند موقف یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گا جو صحیح اور باضمیر ہو گا۔ ہر جگہ اور ہر وقت انصاف کے ساتھ کھڑا ہو گا، ہم شام، عراق، لیبیا، فلسطین، اراکان، ترکستان، بلقان اور افریقہ میں انصاف اور سچائی کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں”۔

مشرقی فرات اور منبج ہمارے شامی ایجنڈا کا اہم ترین حصہ ہیں

ترک صدر ایردوان نے اپنی تقریر میں مزید کہا، "مشرقی فرات اور منبج ہمارے شامی ایجنڈا کا اہم ترین حصہ ہیں۔ ہم ترکی کے کنٹرول کے تحت محفوظ زون ماڈل کے علاوہ کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کرسکتے ہیں جس میں باقی ممالک صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کریں”۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ شام میں ہونے والی پیش رفت ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس لیے ہم شام میں اپنے کسی بھی ایکشن کے لیے کسی سے اجازت لینے یا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے”۔

تبصرے
Loading...