ترکی نے بغیر کسی ناکامی کے اور بحران کے سامنا کیے بناء اپنی صحتِ عامہ کی خدمات کو برقرار رکھا ہے، صدر ایردوان

0 295

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "موجودہ عالم گیر وباء نے ہم سب کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا ہے کہ صحتِ عامہ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت و ضرورت کو سمجھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ترقی یافتہ ممالک بھی بے بس نظر آ رہے ہیں، ترکی نے کسی ناکامی، بحران یا افراتفری کا سامنا کیے بغیر اپنی صحتِ عامہ کی خدمات کو برقرار رکھا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی کابینہ کے اجلاس سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کیا۔

اجلاس کے بنیادی موضوع کرونا وائرس کی عالم گیر وباء کےخلاف جاری جدوجہد کے ساتھ ساتھ شام، لیبیا اور بحیرۂ روم میں حالات پر ہونے والی پیش رفت بھی ایجنڈے کا حصہ تھی۔

"ہم نے دیکھا کہ شامی حکومت نے ادلب میں جارحیت بڑھا دی ہے”

شام پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے دیکھا کہ شامی حکومت نے، جو دنیا اور ترکی کو عالم گیر وباء پر توجہ مرکوز کرتے دیکھ کر حالات کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، ادلب میں جارحیت کو بڑھا دی ہے۔ حالانکہ ترکی 5 مارچ کو روس کے ساتھ ہونے والی مفاہمت سے وابستہ ہے، لیکن وہ شامی حکومت کو جارحیت کی اجازت نہیں دے گا۔ اگر وہ سیزفائر اور مفاہمت کی دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرتی رہی تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہم ادلب میں سیزفائر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات اٹھانے والے کسی بھی گروپ کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔”

اس پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی عالمی قوانین کا پاسدار ہے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ وہ بحیرۂ روم میں شیطانی منصوبوں کو بھی ناکام بنائے گا۔ صدر ایردوان نے مہاجرین کے خلاف غیر انسانی سلوک کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر قانونی اور ضمیرِ انسانی کے خلاف عمل کو ختم کریں۔

صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "لیبیا کی قانونی حکومت کی جانب سے میدان میں حاصل کی گئی حالیہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ شورش پسند حفتر کا اصل چہرہ اب ملک میں زیادہ آسانی سے نظر آئے گا۔ میں ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی بادری کو مدعو کرتا ہوں کہ وہ ملک کی قانونی حکومت کی حمایت کریں۔”

"عالم گیر وباء نے ہمارے لیے ایک مرتبہ پھر صحتِ عامہ میں اپنی سرمایہ کاروں کی اہمیت سمجھنا ممکن بنایا ہے”

کروناوائرس کی عالم گیر وباء کے خلاف جدوجہد میں ترکی کی کامیابی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "موجودہ عالم گیر وباء نے ہم سب کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا ہے کہ صحتِ عامہ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ترقی یافتہ ممالک بھی بے بس نظر آ رہے ہیں، ترکی نے کسی ناکامی، بحران یا افراتفری کا سامنا کیے بغیر اپنی صحتِ عامہ کی خدمات کو برقرار رکھا ہے۔”

یہ کہتے ہوئے کہ مریضوں اور اموات کی زیادہ تعداد رکھنے والے ممالک کو جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ رَش سے نمٹنے میں ملک کے صحتِ عامہ کے نظام کی ناکامی ہے،صدر ایردوان نے مزید کہا کہ لیکن ترکی اپنے بروقت اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت عالم گیر وباء کے خلاف جدوجہد میں صحتِ عامہ کی خدمات باآسانی فراہم کرکے دنیا میں میں نمایاں ہے۔

تبصرے
Loading...