ترکی نے روسی جنگی جہازوں کیلئے بحیرہ اسودکےراستےبندنہیں کیے

0 1,180

ترکی نے روسی جنگی بحری جہازوں کے لیے ترک آبنائے بند کرنے کی منظوری نہیں دی ہے۔ اس معاملے میں اولین معلومات رکھنے والے ایک ترک اہکار نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو کل ٹیلی فونک رابطہ کے دوران یہ نہیں بتایا کہ روسی جنگی بحری جہازوں کی بحیرہ اسود تک رسائی کے لیے ترکی اپنے بحری راستے بند کرنے والا ہے یا بند کر دیے ہیں۔

یہ بیان دونوں رہنماؤں کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والی فون کال کے بعد سامنے آیا ہے۔

یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ترک صدر ایردوان اور ترک قوم کا شکریہ ادا کیا تھا اور کہا تھا روسی جنگی جہازوں کو بحیرہ روم میں داخل ہونے سے روکنا اور یوکرائن کی امداد، اس وقت بہت اہم ہے۔ یوکرائن کے عوام اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔

ترک عہدیدار نے مزید کہا کہ ترکی اب بھی اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے اور زیلنسکی کے ریمارکس "صرف ان کی توقعات کی عکاسی کرتے ہیں”۔

صدر ایردوان نے کہا تھا کہ وہ جلد از جلد جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور یوکرائن کو مزید نقصان اٹھانے سے بچایا جا سکے۔

ترکی کی صدارت اطلاعات میں صدر ایردوان اور یوکرائنی صدر کے درمیان گفتگو کے سرکاری اعلامیے میں بحیرہ اسود کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

1936ء کے مونٹریکس کنونشن کے تحت، ترکی کو بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کو ملانے والی آبنائے باسفورس اور آبنائے ڈارڈینیلس پر کنٹرول حاصل ہے۔ اگرچہ تجارتی بحری جہاز امن کے وقت آزادانہ طور پر ان آبناؤں سے گزر سکتے ہیں، تاہم کسی بھی جنگ یا خطرے کی صورت ترکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جنگی جہازوں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

روس اکثر بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کے درمیان موجود ان ترک آبناؤں کا استعمال کرتا رہتا ہے۔

جمعے کے روز، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا تھا کہ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں زیرِ بحث موضوعات میں "باسفورس” شامل نہیں تھا۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ اگر ترکی انہیں بند کر دیتا ہے تو بھی روسی بحری جہاز آبنائے سے گزر سکیں گے۔

انقرہ میں یوکرائن کے سفیر واسلی بودنار نے جمعرات کو سرکاری طور پر ترکی سے روسی جہازوں کے لیے آبنائے بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

ترکی کے روس اور یوکرائن دونوں کے ساتھ اچھے اقتصادی اور سیاسی تعلقات ہیں اور صدر ایردوان نے پہلے کہا تھا کہ ترکی اس جنگ کی وجہ سے کسی بھی ریاست کو الگ نہیں کرنا چاہتا۔

استنبول میں قائم ایک ترک تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ ترکی کیونکہ اس جنگ میں شریک نہیں ہے اس لیے وہ یہ حق نہیں رکھتا کہ ان آبناؤں کو بند کر دے۔ اگر اس سلسلے میں ترکی بند بھی کرتا ہے تو روس کو پھر مونٹریکس معاہدہ کے تحت حق حاصل ہے کہ وہ ان آبناؤں کو استعمال کر سکتا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: