ترکی نے شامی مسئلہ پر کئی قیمتیں چکائیں ہیں، جبکہ اس سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے، ایردوان

0 816

توب اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے، "ترکی نے شامی مسئلہ پر کئی قیمتیں چکائیں ہیں، جبکہ اس سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے۔ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ترکی کو مزید قیمت چکانے پر مجبور کرے۔ اگر اب کوئی قیمت چکانی ہے تو وہ دہشتگرد تنظیمیں چکائیں گی جو ترکی کو نشانہ بناتی ہیں، اور ان کے حامی قیمت چکائیں گے”۔

ہم اپنی معیشت اور خوشحالی کو بڑھانے کے لیے درست راستہ اختیار کریں گے
ان لوگوں کو واضع کرتے ہوئے جو اپنی تہذیب اور ثقافت کو رسوا اور بے وقعت کرتے ہیں اور اپنے ممالک کے مستقبل کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، ترک صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی کا سب سے بڑا مسئلہ باہر کی قوتیں نہیں جن کا مقابلہ کر رہا ہے بلکہ ملک کے اندر کی نااہلیت ہے جو "دوسروں کے سائے اور کمانڈ کے تحت کام کرتے ہیں جبکہ اپنے ملک کی طاقت کو نہ جانتے ہیں اور نہ یقین کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کے لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں”۔
صدر ایردوان نے مزید کہا، "ہمیں اپنا زرمبادلہ اپنے کاروبار کو بڑھا کر کرنا چاہیے بجائے قیمتیں بڑھانے کر، یہ چیزیں غیر ملکی تبادلے اور شرح سود سے نہیں واضع ہوتیں۔ ہم اپنی معیشت اور خوشحالی کو بڑھانے کے لیے درست راستہ اختیار کریں گے۔ ہم اپنی بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن سٹے بازوں کے مد مقابل ہیں”۔

شام کی جغرافیائی سالمیت پر ترکی کا کوئی منصوبہ نہیں
ترک صدر نے ترکی کی دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ اور شام میں ہونے والی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ جو بھی ترکی پر حملے کی منصوبہ بندی کرتا ہے چاہے وہ داعش ہو یا پی وائے ڈی/ وائے پی جی انہیں اس کی قیمت ضرور چکانا ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی فون کال میں شام میں سیف زون کے قیام پر بھی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بدھ کو ہونے والے روسی دورہ میں بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہو گا۔ صدر ایردوان نے کہا، "ہم نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ شام میں اپنے شامی بھائیوں اور بہنوں کے لیے امن کو یقینی بنائیں اور دہشتگردی سے محفوظ علاقے کا قیام کریں۔ شام کی جغرافیائی سالمیت پر ترکی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ شام، شامیوں کا ہی ملک ہے”۔

ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ترکی کو مزید قیمت چکانے پر مجبور کرے
صدر ایردوان نے کہا، "ترکی نے فرات ڈھال آپریشن اور آپریشن شاخ زیتون کے ساتھ ساتھ ادلب میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے ساتھ اپنی شامی پالیسی کو ثابت کیا ہے۔ ہم نے منبج اور مغربی فرات کے مسائل کا پرامن حل ڈھونڈا ہے اور اس سلسلے میں کوششیں جاری رکھیں گے”۔ انہوں نے مزید کہا، "ترکی نے شامی مسئلہ پر کئی قیمتیں چکائیں ہیں، جبکہ اس سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے۔ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ترکی کو مزید قیمت چکانے پر مجبور کرے۔ اگر اب کوئی قیمت چکانی ہے تو وہ دہشتگرد تنظیمیں چکائیں گی جو ترکی کو نشانہ بناتی ہیں، اور ان کے حامی قیمت چکائیں گے”۔

تبصرے
Loading...