ترکی 50 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کا میزبان ہے، نائب وزیر داخلہ

0 313

ترکی کے نائب وزیر داخلہ اسماعیل چتاقلی نے کہا ہے کہ ترکی 190 مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے 50 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

‘مہاجرین کے عالمی دن’ کے موقع پر اسکی شہر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل چتاقلی نے کہا کہ ترکی نے کھلی بانہوں کے ساتھ مہاجرین کا استقبال کیا اور اپنی پالیسیوں میں انسانی حقوق اور امنِ عامہ کے درمیان ایک حساس توازن بھی قائم کیا۔

نائب وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مہاجرین کے ساتھ ناروا سلوک کو روکنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل استعمال کیے اور مہاجرین کے تحفظ اور ان کے وقار کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔

چتاقلی نے کہا کہ ترکی میں 37 لاکھ شامی مہاجرین مقیم ہیں جبکہ 12 لاکھ شمالی شام میں ترک فوج کے کلیئر کروائے گئے علاقوں میں رہتے ہیں۔

ترکی میں شامی مہاجرین کے پہلے گروہ کے داخلے کو 10 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے جب 250 افراد پر مشتمل ایک قافلہ جنگ اور بشار الاسد حکومت کے مظالم سے فرار ہو کر ایک نئی زندگی کے آغاز کے لیے ترکی پہنچا تھا۔

ترکی 2011ء میں شامی خانہ جنگی کے آغاز سے ہی اسد حکومت کے خلاف اعتدال پسند حزبِ اختلاف کا حامی ہے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے ملک سے فرار ہونے والوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ ترکی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ ترکی میں شامی باشندوں اور شمالی شام میں حزب اختلاف کے ماتحت علاقوں کی امداد میں بھی ترکی پیش پیش ہے۔

ترکی نے سماجی شعبے میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ شامیوں کو ترک معاشرے میں بخوبی شامل کیا جا سکے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: