ترکی، اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کا مرکز

0 379

ترکی اپنے ثقافتی، مذہبی اور معاشی استحکام اور مقام کی وجہ سے غیر ملکی طلبہ کا پسندیدہ مقام بن چکا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ترکوں اور متعلقہ برادریوں کی مجلس (YTB) کے مطابق اس وقت ملک میں 1,48,000 غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

تقریباً 25,000 طلبہ وظائف پر ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں ترکی آنے والے غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ملک میں اعلیٰ تعلیم کی بہترین سہولیات کا نتیجہ ہے۔ ترکی میں تعلیم کو ترجیح دینے والے بیشتر طلبہ ایشیا، افریقہ اور بلقان سے آتے ہیں۔

انادولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے البانیہ سے تعلق رکھنے والے پوسٹ گریجویٹ طالب علم فرڈیننڈ ہاس موکا نے کہا کہ انہیں نے زبردست ماضی اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے تعلیم کے لیے ترکی کا انتخاب کیا۔ "ترکی عالمی مرکز ہے کہ جہاں تہذیب ملتی ہیں۔ ملک اسلام، عثمانیوں اور مابین النہرین (Mesopotamia) کی ثقافتوں کا سنگم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کے مقابلے میں ترکی میں کسی جامعہ میں اندراج کے بعد رہائش کا اجازت نامہ ملنا کہیں آسان تھا۔ ہاس موکا، جنہوں جو انقرہ یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر زیر تعلیم ہیں، کہا کہ ترکی میں تعلیم جیب پر کافی ہلکی ہے۔ انہوں نے ترکی کے غیر سرکاری اداروں کا بھی حوالہ دیا کہ جو غیر ملکی طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ "مثال کے طور پر مجھ سمیت تقریباً 30 طالب علم عاصمہ کوپرو انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی مدد سے تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔” یہ رضاکار گروپ انقرہ میں غیر ملکی طلبہ کو آرام گاہیں اور دیگر سہولیات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ترکی آنے والے غیر ملکی طلبہ کو سیاح سمجھا جاتا تھا لیکن یہ تصور تعلیم کے لیے ترکی کا انتخاب کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافے سے اب تبدیل ہو گیا ہے۔

انقرہ کی یلدرم بازید یونیورسٹی میں علم سیاسیات کے ایک طالب علم جبوتی کے مبارک محمد نے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے مشورے پر ترکی آئے۔ "میرے پاس دو آپشن تھے۔ میں فرانس یا امریکا جا سکتاتھا لیکن میں نے ثقافتی اور مذہبی خصوصیات کی بناء پر ترکی کا انتخاب کیا۔” انہوں نے کہا کہ وہ جبوتی کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ تعلیم کے لیے ترکی کا رخ کریں۔

صومالیہ کے طالب علم عبد الرزاق محمد نے بھی کہا کہ وہ اپنے ملک میں سب کو ترکی ہی تجویز کریں گے کیونکہ ترکی بھی ایک مسلمان ملک ہے۔

تھائی لینڈ کے صوبہ پٹانی سے تعلق رکھنے والے عبید اللہ یوسف، جنہوں نے انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں درخواست دی، کہا کہ "پٹانی میں ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو معاشی مشکلات کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں کر پاتے۔ میں انہیں ترکی آنے کا مشورہ دوں گا۔”

مفیض الرحمٰن ایک روہنگیا مسلمان ہیں جو دراصل برما کی ریاست اراکان سے ہیں اور اسی ادارے سے بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ برما میں اپنی برادری کو درپیش مشکلات کی وجہ سے ترکی آئے۔ انہوں نے ترک حکومت اور ان افراد کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی۔

تبصرے
Loading...