کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ترکی نے 31 صوبوں میں 2 دن کا کرفیو لگا دیا

0 229

ترکی کی وزارت داخلہ نے 30 شہری صوبوں اور شمالی زونگولداک صوبے میں دو دنوں کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔

یہ کرفیو ہفتہ اور اتوار کو ادانہ، انقرہ، انطالیا، آئیدِن، بالیکیسر، بورصا، دینزلی، دیارباکر، ارض روم، اسکی شہر، غازی عنتب، حطائے، استانبول، ازمیر، قہرمان مراش، قیصری، کوجائیلی، قونیہ، ملاطیا، منیسا، ماردین، مرسین، مغلا، اردو، سقاریا، سامسون، شانلی عرفا، تکیرداغ، طرابزون اور وان کے صوبوں میں لگایا گیا ہے۔ یہ صوبے پہلے ہی قرنطینے جیسی صورت حال سے دوچار تھے کہ جہاں ویسے ہی سفر پر بڑی حد تک پابندی تھی اور اشیاء اور ڈیوٹی پر موجودہ سرکاری اہلکاروں کے علاوہ کسی کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں تھی۔

یہ تازہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب وزیر صحت نے 4,747 نئے COVID-19 مریضوں کی تصدیق کی ہے۔ اس ہی جدید کروناوائرس کے مریضوں کی کُل تعداد 47 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اموات 1,006 ہو چکی ہیں۔ ملک کے دو تہائی حصوں، بالخصوص مغربی اور وسطی صوبوں، میں موسم گرم ہونے کی وجہ سے اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ عوام سماجی دُوری کے مطالبات کو پسِ پشت ڈال دیں۔

کرفیو کا مطلب ہے کہ تقریباً 64 ملین افراد، یعنی ملک کی کُل 78 فیصد آبادی، ہفتے کے اختتامی دو دِن گھروں پر گزارے۔ بیکریاں، صحت کی مصنوعات بنانے والے، سرکاری و نجی ہسپتال، دواخانے، نرسنگ ہومز اور شیلٹرز، ایمرجنسی کال سینٹرز، مخصوص پٹرول پمپس (ہر 50 ہزار کی آبادی کے لیے) اور جانوروں کے کلینک، انرجی کمپنیز، پوسٹل اینڈ ڈلیوری کمپنیز اور جانوروں کے شیلٹرز بدستور کھلے رہیں گے۔

سکیورٹی کے شعبے سے وابستہ کاروباری ادارے اور سرکاری ملازمین پر کرفیو لاگو نہیں ہوگا، ساتھ ہی قریبی رشتہ داروں کی تجہیز و تکفین میں شرکت اور خون اور بلڈ پلازما کے عطیات دینے والے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔ جو اِن شرائط پر پورا نہیں اترتے انہیں کرفیو میں باہر نکلنے پر گرفتاری یا جرمانے کا سامنا ہوگا۔

کرفیو کی خبریں سامنے آتے ہی تمام ہی صوبوں میں بیکریوں، اے ٹی ایمز اور دکانوں پر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں، اور عوام سماجی فاصلے کے تمام اصول توڑتے ہوئے نظر آئے۔

81 صوبوں کے پولیس سربراہان سے ایک وڈیو کال میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو نے کہا کہ کروناوائرس کے خلاف جنگ میں یہ ہفتہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ پرامن رہیں اور گھبرا کر زیادہ سے زیادہ چیزیں خریدنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کرفیو اتوار کی رات 12 بجے ختم ہو جائے گا۔

ترکی نے اب تک مکمل لاک ڈاؤن سے گریز کیا ہوا ہے اور 65 سال سے زیادہ یا 20 سال سے کم عمر کے افراد کے نکلنے پر ہی پابندی لگا رکھی ہے۔ گو کہ اسکول اور کاروباری ادارے جیسا کہ چائے خانے اور ہیئر ڈریسرز بند ہیں، لیکن کئی کاروباری ادارے اور دفاتر بدستور کھلے ہیں اور ان میں کام کرنے والے اپنی ذمہ داریاں نبھانے جا رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...