جو اپنے حصے کی جنگ نہیں لڑتا، اسے اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے، ترک صدر کے ٹویٹر سے پیغامات

0 2,150

ترکی اس وقت اپنے حال اور مستقبل کی تاریخی اور اہم جدوجہد کر رہا ہے، یہ بات ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے خصوصی پیغامات دیتے ہوئے کہی ہے۔

ایردوآن نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ، "ہم اپنے ملک اور ملکی مفادات کا تحفظ کے لیے دن رات اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی قوم کے لئے فتح کے ساتھ سامنے آئیں گے وہ قوم جو اتنی ہی عظیم ہے جس طرح 100 سال قبل تھی۔”

ایردوآن نے کہا کہ ترکی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ جو جدوجہد سے دستبردار ہوجاتا ہے اور جغرافیہ میں اتحاد کا خیال نہیں رکھتا ، جس جغرافیہ کو تاریخ میں ہمیشہ "قبضوں اور مظالم” کا سامنا رہا ہے، اس کے نتیجہ "ایک بڑی قیمت ادا کرنے” کی صورت میں نکلتا ہے۔

انہوں نے مادر وطن کے لئے "عظیم جدوجہد” میں اپنی جانیں فدا کرنے والے تمام شہدا پر اللہ کی رحمت کی دعا کی۔

انہوں نے کہا ، "ظلم کے خلاف حق کی جدوجہد آخر دم تک جاری رہے گی۔”

ترکی اپنی جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا ، یہ کہتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ کسی بھی شہید کا خون زمین پر لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا، اور کسی بھی غداری کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا ، "جب تک ہماری قوم ہمارے ساتھ ہے ، ہم [بطورترکی] ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں، اور ان لوگوں کو تاریخی سبق دے سکتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ ہمیں دیوار سے لگا سکتے ہیں۔”

شام کے شہر ادلب میں جمعرات کی شام بشار الاسد فورسز کے فضائی حملے میں کم از کم 34 ترک فوجی شہید اور دسیوں دیگر زخمی ہوگئے۔

ترک فوجی روس کے ساتھ ستمبر 2018 میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت مقامی شہریوں کی حفاظت کے لئے کام کر رہے ہیں ، جو ادلب کے امن زون میں جارحیت کی کاروائیوں پر پابندی عائد کرتا ہے۔

ترک فوجیوں پر ہونے والا اس معاہدہ کو توڑتے ہوئے بشار الاسد کی طرف سے شامی اپوزیشن سے ادلب پر قبضہ کرنے کی فوج کشی کے دوران پیش آیا جس کے سامنے عام شامی عوام پر حملے اور انہیں ہجرت پر مجبور کرنے سے روکنے کے لیے ترک فوج مزاحم ہے

تبصرے
Loading...