صدر ایردوان کا قازق ہم منصب سے رابطہ اور اظہار یکجہتی

قازقستان میں پر تشدد عوامی احتجاج نے گھمبیر صورت حال اختیار کر لی ہے

0 877

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ترکش ریاستوں کی تنظیم کے رہنماؤں سے جمعرات کے روز بات کی اور کہا کہ ہمیں اپنے قازق ہم منصب قاسیم جومرت توکایوف سے کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ قازقستان میں پر تشدد عوامی احتجاج نے گھمبیر صورت حال اختیار کر لی ہے جو پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر پھوٹے تھے۔

ترک صدارت اطلاعات کی پریس ریلیز کے مطابق صدر ایردوان نے اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علیوف، کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف اور ازبک ہم منصب شوکت مرزیویف سے بھی بات چیت کی۔

پریس ریلیز کے مطابق، صدر ایردوان نے توکایوف کو بتایا کہ وہ قازقستان میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور فسادات سے ہونے والی ہلاکتوں پر قازق رہنما سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکی کو یقین ہے کہ قازقستان موجودہ مسائل پر قابو پالے گا اور ضرورت پڑنے پر ترک حکومت ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدارتی ترجمان ابراہیم کالن نے بھی قازقستان میں بدامنی پر بات کرتے ہوئے کہا: "ہمیں قازقستان میں ہونے والے واقعات اور اموات پر گہرا افسوس ہے۔ قازقستان کا امن اور استحکام ہماری سب سے بڑی ترجیحات ہیں۔ ترکی ہمیشہ قازقستان کے ساتھ کھڑا رہے گا”۔

قازقستان کے سب سے بڑے شہر اور سابق دارالحکومت الماتی میں جھڑپوں میں درجنوں مظاہرین اور کم از کم ایک درجن سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں، آخری خبروں کے آنے تک مختلف مقامات پر جھڑپیں جاری تھیں۔

رائٹرز کے نامہ نگاروں نے جائے وقوعہ سے اطلاع دی ہے کہ کئی بکتر بند گاڑیاں اور درجنوں دستے پیدل چلتے ہوئے جمعرات کی صبح قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی کے مرکزی چوک میں داخل ہوئے جہاں سینکڑوں افراد تیسرے دن بھی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ترکی ایکسیس یا ترکیش نیو ورلڈ آرڈر

رائٹرز کے عینی شاہدین کے مطابق، جب فوجی ہجوم کے قریب پہنچے تو گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دی، لیکن اس کے بعد سے چوک میں صورتحال پرسکون ہو گئی تھی۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کو اطلاع دی کہ قازقستان کے نیشنل بینک نے تمام مالیاتی اداروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملک بھر میں انٹرنیٹ زیادہ تر بند ہے۔

قازقستان میں ابتدائی طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں منگل اور بدھ کو 12 پولیس اور نیشنل گارڈز کے دستے ہلاک ہو گئے، جس سے قازق صدر نے روس کی قیادت میں ‘سلامتی اتحاد’ سے مدد کی اپیل کی تھی، جس نے قازقستان کو امن فوج بھیجنے کی پیشکش کی تھی۔

صدر قاسم جومارت توکایف نے جمعرات کو بتایا کہ قازقستان کی مسلح افواج کو امن بحال کرنے اور فسادات کو ختم کرنے کے لیے بلایا گیا ہے کیونکہ مظاہرے بظاہر عام بغاوت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: