ادلب بحران کو حل کرنے کے لیے ترکی روس کے ساتھ رابطے میں ہے، ایردوان

0 162

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ شام کے صوبہ ادلب اور لیبیا میں جاری صورت حال کے حوالے سے ترک حکام روس سے رابطوں میں ہیں، اور ساتھ ہی کہا کہ وہ اس سلسلے میں روڈ میپ کو حتمی صورت دینے کے لیے خود روسی ہم منصب کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔

آذربائیجان کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردان نے کہا کہ ادلب بحران کا حل ترکی کی اولین ترجیح ہے۔ "روس بشار اسد حکومت کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے، جس میں فضائی مدد بھی شامل ہے اور ترکی کے پاس کافی شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ روس بشار اسد کی افواج کی مدد کر رہا ہے، چاہے وہ اس کی تردید ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ روسی وفد ادلب کے معاملے پر مذاکرات کے لیے بدھ کو ترکی میں آئے گا، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 5 مارچ کو استنبول یا انقرہ میں صدر ولادیمر پوتن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

صدر ایردوان نے فرانسیسی، جرمن اور روسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "چار فریقی اجلاس کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔”

روس کی پشت پناہی رکھنے والے بشار اسد کی حکومت دسمبر سے جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور 2012ء سے حزبِ اختلاف کے پاس موجود ایک اہم شاہراہ M5 پر قبضہ کرکے اسے دوبارہ کھولنے کے درپے ہے، حالانکہ پچھلے سال روس اور ترکی کے درمیان سیزفائر معاہدہ ہو چکا ہے۔

اسد رجیم کے دستوں نے پچھلے بدھ کو مراۃ النعمان جیسا اہم قصبہ دوبارہ حاصل کیا ہے اور ان کی نظریں سراقب پر ہیں۔ یہ اہم شاہراہ ان دونوں قصبوں سے گزرتی ہے۔

صوبہ ادلب 30لاکھ شہریوں کا مسکن ہے، جن میں سے کئی تشدد کی کارروائیوں کی وجہ سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ہی 3,90,000 شامی – 3,15,000 دسمبر میں اور 75,000 جنوری میں – بے گھر ہو چکے ہیں۔

ترکی اس وقت 35 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور ادلب میں تشدد کی حالیہ لہر کے بعد ترک سرحدوں کی جانب مہاجرین کی ایک اور لہر بڑھنے کا خدشہ ہے۔

صدر نے کہا کہ لیبیا کا معاملہ بھی ہے جس پر وہ بات کریں گے، کیونکہ باغی جرنیل خلیفہ حفتر کے دستوں کو ابوظہبی انتظامیہ کی مالی مدد حاصل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لیبیا میں ترکی کے دو فوجی شہید ہوئے ہیں۔

2011ء میں معمر قذافی کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے لیبیا میں طاقت کے دو مراکز بن گئے ہیں: ایک مشرقی لیبیا میں جسے مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسرا طرابلس میں جسے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری تسلیم کرتی ہے۔

شورش پسند جنرل حفتر کی افواج مصر، متحدہ عرب امارات، روس کے کرائے کے سپاہیوں اور چند افریقی دستوں کے ذریعے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جبکہ ترکی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ GNA کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...