ترکی نے صحت و تعمیرات کے بڑے منصوبوں کا افتتاح کر دیا

0 558

ترکی نے دو اہم سنگ ہائے میل عبور کرلیے ہیں کہ جن میں سے ایک ترکی کے دو بڑے شہروں کے درمیان سفر کے دورانیہ کو نصف کردے گا جبکہ دوسرا منصوبہ ملک میں صحت عامہ کی سہولیات کو بہتر بنانے کی کوششوں میں ایک نئے تصور کا حصہ ہے۔ شمال مغربی صوبہ بورصہ میں ایک تقریب میں صدر رجب طیب ایردوان نے ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کو بحیرۂ ایجیئن کے ساحل پر واقع شہر ازمیر سے ملانے کے لیے شاہراہ کے باقی 192 کلومیٹر کے حصے کا افتتاح کردیا ہے، یوں ان دونوں شہروں کے درمیان 426 کلومیٹر طویل شاہراہ اب استعمال کے قابل بن گئی ہے۔ صدر مملکت نے بورصہ سٹی ہسپتال کا افتتاح بھی کیا جو ترکی کی ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ ترکی ہسپتالوں میں بستروں کی گنجائش بڑھا کر اور ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرکے صحت کے مسائل ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

استنبول-ازمیر شاہراہ کا آخری حصہ 183 کلومیٹر کی مرکزی شاہراہ اور 9 کلومیٹر کے منسلک راستوں پر مشتمل ہے۔ اس سے قبل شاہراہ کا 201 کلومیٹر طویل حصہ اور اس تک پہنچنے کے لیے 33 کلومیٹر کے راستے زیر استعمال تھے۔ نئی شاہراہ استنبول اور ازمیر کے درمیان فاصلے کو 100 کلومیٹر کم کرے گی اور ازمیر تک پہنچنے سے قبل بورصہ، بالق اسیر اور مانیسا جیسے شہروں سے ہوتے ہوئے گزرے گی، ایردوان نے تقریر میں بتایا۔ صدر نے اس شاہراہ کے راستے میں واقع ان شہروں کا حوالہ دیا کہ جو ملک کے اہم برآمدی مراکز ہے اور ملک کی 64 فیصد آمدنی یہی سے ہوتی ہے۔ منصوبہ کل 11 ارب ڈالرز کی لاگت سے تکمیل کو پہنچا ہے اور صدر ایردوان کے مطابق یہ ملک کی معیشت میں سالانہ 3.5 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالے گی۔ جس میں دونوں شہروں کے درمیان سفر میں ایندھن اور وقت کی بچت بھی شامل ہیں۔

یہ شاہراہ ترکی کے اہم صنعتی شہروں میں سے گزرتی ہے، اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ سیاحت، صنعت اور برآمدات میں بھی اضافہ کرے گا، صدر نے کہا۔

سابق وزیر ٹرانسپورٹیشن بن علی یلدرم، جو اس وقت آق پارٹی کے ڈپٹی برائے ازمیر ہیں اور ایسے میگاپروجیکٹس میں کامیابی کا طویل ریکارڈ رکھتے ہیں، نے شاہراہ کے بالق اسیر حصے کا افتتاح کیا۔

صدر ایردوان نے بلٹ-آپریٹ-ٹرانسفر (BOT) ماڈل کو بھی سراہا، جس پر یہ شاہراہ بنائی گئی ہے اور کہا کہ ترکی میں تعمیر ہونے والے دیگر منصوبوں کی طرح یہ ماڈل یہاں بھی قومی ترقی میں مدد دے گا۔

خدمات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ان منصوبوں کی تعمیرات اور انہیں چلانے کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے تعاون کا انتخاب کیا۔ صدر نے بتایا کہ اس منصوبے کو مکمل کرنے والا وینچر، جو اگلے 22 سال اور چار ماہ تک اسے چلائے گا، حکومت کو 6.3 ارب ترک لیرا ادا کرے گا۔

ایردوان نے 79 سال تک ترکی میں موجود 6,100 کلومیٹر کی شاہراہوں کو انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے 18 سالہ اقتدار میں 26,764 کلومیٹرز تک بڑھایا گیا۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ شاہراہوں پر موجود سرنگوں کی لمبائی بھی 50 کلومیٹر سے 473 کلومیٹرز تک پہنچی۔

سفر کا دورانیہ اب ہوگا آدھا

استنبول-بورصہ-ازمیر ہائی وے پروجیکٹ، جس کی کل لمبائی 426 کلومیٹر ہے، میں 384 کلومیٹر کی شاہراہ اور 42 کلومیٹر کے منسلک راستے شامل ہیں، جو استنبول اور ازمیر کے دوران سفر کا دورانیہ آدھا کردیں گے جو صدر مملکت کے مطابق عام حالات میں اس وقت 8.5 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے جبکہ نئی شاہراہ پر ساڑھے 3 گھنٹے لگیں گے۔

2010ء میں شروع ہونے والی یہ شاہراہ ترکی میں نقل و حمل کے اہم راستوں میں سے ایک ہے جو مرمرا علاقے کو ایجیئن خطے سے ملاتی ہے یعنی مغربی بحیرۂ روم کو مغربی اناطولیائی علاقوں سے۔ اس منصوبے کا اہم حصہ عثمانی غازی پُل 2016ء میں کھولا گیا تھا، جو سفر کے دورانیہ میں ڈیڑھ گھنٹے کی کمی لاتا ہے۔

یہ منصوبہ ترکی میں اور بیرونِ ملک خاص طور پر ترک صنعتی و زرعی مصنوعات کو معاشی طور پر سہارا دے گا اور ان کی اہم تنصیبات اور سہولیات فراہم کرے گا۔

ٹرانسپورٹیشن اور انفرا اسٹرکچر کے وزیر جاہد طورخان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اب تک اس شاہراہ کی تعمیر میں 5,000 افراد ملازم رہے ہیں اور تعمیرات کا کام مکمل ہونے پر اس منصوبے میں تقریباً 1,000 افراد دیکھ بھال اور چلانے کے لیے ملازم ہوں گے۔

صحت عامہ میں جدّت

صدر ایردوان نےبورصہ سٹی ہسپتال کا افتتاح بھی کیا جو ترکی میں اپنی نوعیت کا 10 واں کمپلیکس ہے۔ یہ 1355 بستروں کی گنجائش رکھتا ہے اور تقریباً ساڑھے 7 لاکھ مربع میٹرز کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ 488 ملین یوروز (542 ملین ڈالرز) کی لاگت سے تیار کردہ یہ کمپلیکس چھ مختلف ہسپتال رکھتا ہے جو طب کے مختلف شہروں کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہیں، صدر نے کہا۔

"ہمارا ہدف صحت کی ایسی 31 تنصیبات بنانے پر ہے کہ جن میں بستروں کی کل گنجائش 44,846 ہوگی،” صدر مملکت نے کہا۔

2017ءتک ملک میں ایسے 9 ہسپتال تھے کہ جو مرسین،یوزگات، اسپارٹا، ادانہ، قیصری، الازیغ، اسکی شہر، مانیسا اور انقرہ میں تھے، جو فروری میں کھولا گیا تھا اور یورپ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔

سٹی ہسپتال بستروں کی گنجائش میں اضافے اور ڈاکٹروں کی قلت کے خاتمے کے ساتھ صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ وہ صحت کے لیے جدید ماحول اور اعلیٰ معیار کی سہولیات رکھتے ہیں کہ جن میں فائیو اسٹار رہائشی سہولیات بھی شامل ہیں۔

یہ بڑے کمپلیکس زیادہ تر مضافاتی علاقوں میں بنائے گئے ہیں اور ان میں ملحقہ علاقوں کے موجودہ ہسپتالوں کا عملہ اور خدمات موجود ہیں۔ یہ کئی شہروں کے دیگر ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات سے مختلف طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

سٹی ہسپتال پرائیوٹ کمپنیوں کو لیز پر دیے گئے ہیں اور حکومت صرف میڈیکل امیجنگ، لیبارٹریز، سکیورٹی، دیکھ بھال اور ہیلتھ کیئر ورکرز کی تنخواہیں ادا کرتی ہے۔

ترکی میں موجودہ ہسپتالوں کو بھی جدید صورت دی جا رہی ہے اور ملک بھر میں 500 سے زیادہ نئے ہسپتال کھولے گئے ہیں۔ صدر ایردوان نے وزیر اعظم کی حیثیت سے "سٹی ہسپتال” کا تصور پیش کیا تھا اور اسے اپنا "خواب” کہا تھا۔

تبصرے
Loading...