ترکی اور بھارت پہلی سہ ماہی میں نمو ظاہر کرنے والے واحد ممالک ہیں، ‏OECD

0 271

کرونا وائرس کی وباء 2020ء کے ابتدائی تین مہینوں میں جی-20 ممالک کی کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں ریکارڈ کمی کا باعث بنی ہے، جو 1998ء میں ریکارڈز مرتب کیے جانے کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے، جبکہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (OECD) کا کہنا ہے صرف ترکی اور بھارت ہی جی-20 کے ایسے ممالک ہیں کہ جنہوں نے جنوری سے مارچ تک نمو ظاہر کی ہے

پہلی سہ ماہی میں جی-20 ممالک کی اصل جی ڈی پی میں 3.4 فیصد کی کمی آئی ہے، جس میں سب سے زیادہ زوال چین کو آیا ہے کہ جہاں 2019ء کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں معیشت میں 9.8 فیصد سکڑ گئی ہے، اور OECD کی رپورٹ بتاتی ہے کی فرانس اور اٹلی دونوں 5.3 فیصد نیچے آئے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس کے مقابلے میں سخت لاک ڈاؤن کرنے والے پہلے ممالک تھے۔ "2009ء کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں جی ڈی پی صرف 1.5 فیصد کم ہوا ہے، جو کہ مالی بحران کے عروج کے دن تھے۔”

OECD کا کہنا ہے کہ ترکی اور بھارت ہی جی-20 کی وہ معیشتیں ہیں کہ جنہوں نے پہلی سہ ماہی میں مثبت نمو ظاہر کی ہے، بالترتیب 0.6 اور 0.7 فیصد۔

OECD نے کہا کہ عارضی ڈیٹا نے اہر کیا ہے کہ جی ڈی پی جرمنی میں 2.2 فیصد، کینیڈا میں 2.1 فیصد اور برطانیہ میں 2 فیصد کم ہوا ہے۔ برازیل میں یہ 1.5 فیصد، امریکا اور جنوبی کوریا میں 1.3 فیصد اور میکسیکو میں 1.2 فیصد رہا۔ انڈونیشیا میں یہ زوال اتنا زیادہ نہیں رہا کہ جو 0.7 فیصد کمی کا شکار رہا جبکہ جاپان کی معیشت میں 0.6 اور آسٹریلیا میں 0.3 فیصد کمی آئی ہے۔

OECD کا کہنا ہے کہ 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں جی-20 ممالک کی معیشت 1.5 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ پچھلی سہ ماہی میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ جی-20 ممالک میں ترکی نے سب سے زیادہ 4.4 فیصد کی سالانہ نمو ظاہر کی ہے جبکہ چین نے سب سے زیادہ 6.8 فیصد کا زوال پایا ہے۔

پیرس میں قائم ایجنسی پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کرونا وائرس کا بحران ایک صدی کی بدترین کساد بازاری لائے گی جبکہ اس سے درپیش خطرہ ابھی ٹلا نہیں اور نہ ہی دوسری لہر آنے کا کچھ پتہ ہے۔

موجودہ منظرنامے کے مطابق انجمن کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں 6 فیصد کی کمی آئے گی اور 2021ء میں یہ 5.2 فیصد کی نمو کے ساتھ واپس آئے گی، لیکن اس صورت میں کہ معاملات قابو میں آ جائیں۔ لیکن اگر وباء کی ممکنہ دوسری لہر آئی تو عالمی معیشت 7.6 فیصد کے زوال کا شکار ہوگی اور اگلے سال اضافہ بھی محض 2.8 فیصد کا ہی ہوگا۔

اس صورت میں کروڑوں افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوں گے اور یہ بحران سب سے زیادہ غریبوں اور نوجوان طبقے کو متاثر کرے گا اور عدم مساوات میں اضافہ ہوگا۔

تبصرے
Loading...