ترکی نے روس کو شمال مغربی شام میں اپنی واضح پالیسی سے آگاہ کر دیا

0 298

ترکی نے شمالی مغربی شام میں تمام ضروری فوجی تیاریاں کر لی ہیں اور روس کو بتا دیا ہے کہ وہ بشار الاسد کی حکومت کو پرانی حدود تک واپس لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔

حکمران انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے ترجمان عمر جیلک نے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت معاہدے کے تحت پچھلی حدوں تک واپس نہ گئی تو ترکی ضروری قدم اٹھائے گا۔ شامی حکومت کے اتحادی روس کو بھی واضح طور پر خطے میں ترکی کی پوزیشن سے آگاہ کر دیا ہے۔

گزشتہ چھ دنوں میں ادلب شہر میں 1,48,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ جنوری 2019ء سے اب تک ادلب اور ملحقہ علاقوں میں بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد 20 لاکھ کے قریب ہے، جن میں سے زیادہ تر ترک سرحدوں سے ملحقہ علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں کہ جو پہلے ہی 36 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ عورتوں اور بچوں سمیت لاکھوں افراد انسانی امداد کے منتظر ہیں کیونکہ ان کے کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ انہیں خوراک کی کمی اور صحت کے مسائل سے نمٹنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

ایران اور روس کی پشت پناہی رکھنے والی شام کی سرکاری افواج حلب اور پڑوسی صوبہ ادلب پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ جو اس جنگ زدہ ملک میں حزب اختلاف کا گڑھ ہیں۔

مہاجرین کے بحران کے ساتھ ساتھ ان فوجیوں کی پیش رفت نے بھی ماسکو اور انقرہ کے باہمی تعاون کو متاثر کیا ہے۔ ترکی نے 2017ء کے آستانہ اور 2018ء کے سوچی معاہدوں کے تحت اپنی افواج علاقے میں بھیجیں تاکہ یہاں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ لیکن شام کی سرکاری افواج، ان کے اتحادی اور ان کی وفادار ملیشیا بدستور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ رواں ماہ اب تک شامی افواج کی گولہ باری سے 12 ترک فوجی اور ایک سوِل اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔

ایک ایسے موقع پر جب انقرہ اور ماسکو کے درمیان ادلب کے معاملے پر مذاکرات چل رہے ہیں، صدر ایردوان نے پچھلے ہفتے ہی کہا کہ اگر شامی افواج خود پیچھے نہ ہٹیں تو ترکی کی فوج انہیں واپس دھکیلے گی۔

تبصرے
Loading...