ترکی نے مشرقی بحیرۂ روم میں ڈرلنگ کا عمل تیز کر دیا

0 315

ترکی نے COVID-19 کی عالم گیر وباء کے باوجود مشرقی بحیرۂ روم میں ہائیڈرو کاربن ذرائع کی تلاش اور ڈرلنگ کا عمل تیز کر دیا ہے، جبکہ تیل کی گھٹتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے علاقے میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کی جانب سے عارضی طور پر کام بند کیا جا رہا ہے۔

ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے دو بحری جہازوں – فاتح اور یاوُز – کے ذریعے یہ سرگرمیاں کر رہا ہے جس میں عروج رئیس اور باربروس خیر الدین نامی دو seismic جہاز بھی شامل ہیں۔

پہلا ڈرلنگ جہاز، فاتح، بحیرۂ اسود میں اپنے آپریشنز جاری رکھنے اور جولائی میں علاقے میں پہلے ڈرلنگ منصوبوں پر کام کے لیے تیار ہے۔

تیسرا ڈرلنگ جہاز، قانونی، بھی 15 مارچ کو تاشوجو پہنچ چکا ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے صوبہ مرسین کا ساحلی شہر ہے۔

کروناوائرس نے عالمی معیشت کو یکدم ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے جس کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں بہت تیزی سے گری ہیں۔ مارچ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک (OPEC) اور نان-اوپیک ملکوں کے مابین معاہدہ نہ ہونے کے بعد دنیا کے دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، سعودی عرب اور روس، کے مابین تیل کی قیمت پر جاری تنازع سے یہ بحران مزید گمبھیر ہو گیاہے۔

COVID-19 کے اثرات اور تیل کی گھٹتی ہوئی قیمتیں عالمی آئل کمپنیوں کی تلاش اور ڈرلنگ کی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں اور نتیجہ ان منصوبوں پر نظرثانی کرنے یا عارضی طور پر معطل کرنے کی صورت میں نکل رہا ہے۔ مشرقی بحیرۂ روم میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔

ایگزون موبل بین الاقوامی مارکیٹ کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے قبرص کے ساحل کے ساتھ ڈرلنگ کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔

اسی طرح بین الاقوامی خبری اداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2020ء میں تین اور آئندہ دو سالوں میں چھ کنویں کھودنے کا فرانس و اٹلی کا مشترکہ – ٹوٹل اور ENI کا- پروجیکٹ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

تبصرے
Loading...