‏2023ء کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اصلاحات کا نیا باب کھل گیا

نور اوزقان اوربے

0 115

ترکی اپنی معیشت، قانون اور سماجی شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے کہ جس کے ابتدائی اشارے صدر رجب طیب ایردوان کی گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے کی گئی تقریر میں ملے ہیں۔

اس عرصے کا سب سے اہم ہدف ہے کووِڈ-19 کے بعد نئی دنیا میں مواقع کا بہترین استعمال، جس میں معاشی، سیاسی اور سماجی دائروں میں اہم اصلاحات بھی شامل ہیں۔

ان میں ترکی میں سرمایہ کاری کے ماحول اور قانون سازی کے حوالے سے اصلاحات اور قواعد شامل ہیں۔ حکومت مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ممکنہ مسائل کے فوری اور عملی حل کے لیے اداروں کو سازگار حالات دے گی۔

ترکی سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ترکی کی قومی آمدنی اب بھی 950 ارب ڈالرز پر کھڑی ہے، جبکہ اس کی برآمدات تقریباً 152 ڈالرز ہیں۔ ترکی کا ہدف فی کس آمدنی اور ملک میں براہ راست سرمایہ کاری 2013ء کی سطح پر واپس جانا اور اعتماد کا ماحول قائم کرنا ہے۔

اصلاحات کا نیا دور انسانی حقوق اور عدالتی نظام جیسے اہم شعبوں میں اصلاحات لائے گا۔ جیسا کہ صدر ایردوان نے زور دیا ہے کہ وہ آزادی اور سکیورٹی کے مابین ایسا توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کا سبب بنیں۔

ترکی اور کئی جدید جمہوریتوں کو گومگو کی ایک کیفیت کا سامنا ہے، جس میں انقرہ ایسا ماحول تخلیق کرنے کی کوشش کرے گا جہاں سکیورٹی پالیسیوں اور آزادی پر کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ترکی اس محاذ پر 2013ء سے ایسی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے کہ گویا بارودی سرنگوں سے اٹے کسی میدان میں کھڑا ہو، جس میں انقرہ کا کہنا ہے کہ ناقدین کے لیے جون 2013ء کے غیزی مظاہروں اور جولائی 15 میں گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کی ناکام بغاوت کے بعد سکیورٹی اپروچ کو سخت کرنے پر تنقیدی نگاہ ڈالیں۔

اس عرصے میں ترکی اپنے ہیومن رائٹس ایکشن پلان کو حتمی شکل دے گا جبکہ عوامی اختیارات کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا، جو آزادی کو تحفظ دیتی ہے۔

ترکی ترقی اور پیش رفت میں رکاوٹ ڈالنے والے ان مسائل کو حل کر کے فوری اصلاحات کے دور میں داخل ہوگا، جیسا کہ جینے اور املاک کے حق کا تحفظ، مناسب مدت میں مقدمات کا خاتمہ، حراست کا دورانیہ کم کرنا، حقوق کی خلاف ورزی سے بچاؤ، آزادی اظہار اور افسر شاہی میں خرابیوں کا خاتمہ۔

ترکی اپنے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر 2023ء کے اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے، اس دوران وہ امید کرتا ہے کہ اصلاحات ان مسائل کو حل کر یں گی اور 8 کروڑ سے زیادہ شہریوں کے حقوق اور ضروریات کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کریں گی۔ دوسری جانب ہ سرمایہ کاری کے لیے ایسا ماحول بنانا چاہتا ہے جو سماجی، سیاسی و معاشی صورت حال میں زیادہ سے زیادہ بہتر ہو اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مستقل حیثیت رکھتا ہو۔

قانون، معیشت اور جمہوریت میں نئے دور کی ابتدائی علامات کا مارکیٹوں اور عوام کی جانب سے اچھا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

ایردوان اور ان کی ٹیم کاموں کی فہرست، اہداف، نفاذ اور نئے دور کے فلسفے کے لیے معاشی اداروں، کاروباری دنیا کے اراکین کے ساتھ ساتھ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی مستقل رابطے میں ہے۔

نئے دور میں دنیا کو متوقع طور پر 2021ء کے وسط سے نئے سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی توازن کی بھی ضرورت ہے۔ ترکی کووِڈ-19 کے بعد خطے اور بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی متحرک پالیسی کو دھیما کیے بغیر سماجی و اقتصادی شعبوں میں اپنی طاقت بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔ وہ ایسے مسائل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ جو اس کی توانائی خرچ کریں یا نئے دور میں اس کی رفتار کو کم کرنے کے لیے رکاوٹیں پیدا کریں۔

اصلاحات کے لیے ترکی خطے اور بین الاقوامی اکھاڑے میں اپنی توقعات سے تحریک پا رہا ہے۔ وہ 100 سال مکمل ہونے پر دنیا کی 10 بہترین معیشتوں میں سے ایک بننے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے متحرک ہے، جبکہ خطے کے مسائل اور عالمی کشمکش میں زیادہ مؤثر ملک بن کر ابھرنے کے لیے جمہوریت کو بہتر بنانے پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

تبصرے
Loading...