ترکی اپنے اسلامی عزائم کے ساتھ اسٹریٹجک خطرہ بنتا جا رہا ہے، اسرائیلی مبصر

0 5,358

اسرائیلی فوج کے مبصر رون بن یشی نے کہا ہے کہ "ترکی اپنے اسلامی عزائم کے ساتھ ہمارے لیے اسٹریٹیجک خطرہ بن رہا ہے”۔ یہ کہتے ہوئے اس نے کہا ہے کہ "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کبھی کبھی نئے عثمانی سلطان ایردوان نے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں”۔

اسرائیلی اخبار ہیبریو کے مطابق بن یشی نے کہا ہے کہ "ہم اس وقت (کورونا)وائرس اور ایرانی خطرے سے دوچار ہیں۔ لیکن جلد ہی ترکی کی طرف سے پیدا کردہ اسٹریٹجک خطرے کے اثرات دیکھیں گے”۔

یشی نے مزید کہا کہ "لیبیا اور بحیرہ روم میں ترکی کا طرز عمل اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ” ترکی عالمی طاقت بننے کی خواہش رکھتا ہے اور اپنے ان تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے فوجی حکمت عملی سے بھی دریغ نہیں کر رہا ہے”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "ترکی کی چالیں، صرف ایردوان کی ذاتی خواہش نہیں ہے، بلکہ ایردوان کے سیاسی اسلام (اخوان المسلمون) کے نقطہ نظر کے مطابق، نئی ترک سلطنت کی بحالی کے بڑے عزائم ہیں، اور اس میں اس کی پوری پارٹی اس کے ساتھ ہے”۔

یشی نے مزید دعویٰ کیا کہ "ایردوان، ایران کے برخلاف اپنے عزائم کو چھپاتا نہیں ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ بعض اوقات ایردوان کے اندر چھپے نئے عثمانی سلطان سے خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں”۔

لیبیا میں بحران شروع ہوئے 9 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دورانیے میں لیبیا کے لئے ترکی کی کوششوں کا مقصد ہمیشہ ملک میں قیامِ امن و استحکام رہا ہے۔

2 جنوری کو ترک پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس سے ترک حکومت کو لیبیا میں افواج کی باقاعدہ تعیناتی کی اجازت دی گئی۔ ترکی نے اپنی افواج کو طرابلس میں قائم اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کے لیے بھیجا۔

ترکی کی لیبیا میں افواج کی تعیناتی پر یونان اور اسرائیل سمیت فرانس، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اور روس اور مصر سمیت ان ممالک نے لیبیا کی باغی قوتوں جنرل حفتر کی بھرپور عسکری اور سیاسی مدد کی۔ تاہم ترکی کی ڈرون ٹیکنالوجی نے حفتر کو کئی اہم اور بڑے شہروں سے محروم کر دیا۔

ترکی کی بھرپور کامیابیوں کے ساتھ ہی لیبیا حکومت نے ترکی کو لیبیا کے ساحلی سمندر میں اپنے بحری افواج کی تعیناتی کی بھی اجازت دے دی۔ جس کے نتیجے میں ترکی کا خطے اور اس سے منسلک سمندروں پر گرفت مضبوط ہو چکی ہے اور بین الاقوامی فورم کے ذریعے ایک عارضی فائربندی کا معاہدہ بھی ہوا ہے۔

تاہم ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کہتے ہیں کہ اگرچہ خلیفہ حفتر نے بارہا فریقین کے درمیان طے پانے والی فائر بندی کی خلاف ورزی کی لیکن اس کے باوجود روس، متحدہ عرب امارات اور فرانس جیسے ممالک ابھی تک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔

قالن نے کہا ہے کہ "لیبیا کی حکومت اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ جائز حکومت ہے۔ گذشتہ سال ہم نے لیبیا حکومت کی طلب پر ان کے ساتھ ایک فوجی سمجھوتہ کیا ہے۔ یہ چیز ہر کوئی قبول کرتا ہے کہ ترکی نے لیبیا میں توازن پیدا کیا ہے اور ہم خود بھی ملک میں جھڑپوں کے خاتمے کے خواہش مند ہیں۔ ہم لیبیا میں ایک ایسے سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں کہ جس کی اوّلین ترجیح لیبیا کی زمینی سالمیت ہو۔ لیکن اب ہمیں حفتر پر اعتماد نہیں ہے۔ وہ صرف مہلت حاصل کرنا چاہتا ہے”۔

صدارتی ترجمان نے زور دیا کہ لیبیا کے معاملے پر ناٹو کو انصاف کے ساتھ کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ امریکہ کے کردار بارے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکہ شام کی غلطیوں کو دوبارہ لیبیا میں دوہرائے۔

ترکی خارجہ پالیسی کی ماضی قریب میں لیبیا کی طرح کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ترکی نے لیبیا میں فوجی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر کبھی حاصل نہ ہو سکنے والی ایک کامیابی حاصل کی ہے۔ رونما ہونے والے واقعات کا ترتیب وار جائزہ لینا ذی فہم ہو گا۔ اپریل 2019 میں بغاوت کی کوشش کے ساتھ طرابلس کے اندرونی محلوں تک پہنچنے والا باغی حفتر اگر ترکی کی لیبیا میں مداخلت نہ ہوتی تو یہ طرابلس پر قبضہ کرتے ہوئے قومی مطابقت حکومت کا خاتمہ کر دیتا۔ طرابلس پر قبضے کے ساتھ ترکی کو بحیرہ روم میں جیوپولیٹک رقابت کے معاملے میں بے یارو مدد گار چھوڑ دینے کا احتمال قوی تھا۔

مذکورہ نتیجے کا سد باب کرنے کے لیے ترکی نے دو طرفہ ایک حکمت عملی پر عمل درآمد کیا۔ اولین طو رپر قومی مطابقت حکومت کو محاذ پر جھڑپوں کے لیے منظم کرنے کا موقع فراہم کرنے والی ایک وسیع پیمانے کی فوجی حکمتِ عملی کو وضع کیا۔ اس طریقے سے حفتر کے سامنے مسلسل شکست کھانے والی قومی مطابقت حکومت کی قوتوں کے منظم ہوتے ہوئے طاقتور بننے کا موقع حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں ترکی نے قومی مطابقت حکومت کی قوتوں کو حفتر کے خلاف عسکری امداد فراہم کرتے ہوئے حملے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بکتر بند گاڑیوں سے لیکر ڈراؤن اور مسلح ڈراؤنز نے بھی لیبیائی فوج کو حرکات و سکنات میں معاونت فراہم کرتے ہوئے انہیں حفتر پر برتری قائم کرنے کا موقع حاصل کیا ہے۔

مذکورہ سلسلے کے نتیجے میں لیبیائی قوتوں کے حفتر کو روک سکنے اور حتی پسپا ہونے پر مجبور کر سکنے کی امیدیں بلند ہونے لگیں۔ حفتر کو اولین طور پر طرابلس کے جنوبی علاقوں سے ہاتھ دھونے پڑے بعد ازاں یہ پس قدمی کرنے پر مجبور ہو گیا۔

واطیہ کو نجات دلانے سے طرابلس پر حملوں میں کافی حد تک کمی لائی گئی ہے تو دوسری جانب حفتر کے خلاف آپریشن کے متبادلوں میں بھی وسعت آئی۔ واطیہ پر قبضے کے بعد پہلے طرخونہ کو نجات دلائی گئی پھر صیرطہ کے خلاف وسیع پیمانے کی کاروائیاں شروع کی گئیں۔ اب کے بعد مذکورہ فتوحات کو کسی سٹریٹیجک فتح میں بدلا جانا انتہائی اہم ہے۔ اسی دوران ترک حکام نے 17 جون کو طرابلس کا ایک اعلی سطحی دورہ بھی کیا۔

اس دورے کا مقصد قدرے واضح ہے: لیبیا کو یکجا کرتے ہوئے ملک میں استحکام کا قیام ، اس میں کامیابی کی صورت میں ترکی کی بحیرہ روم میں مقررہ اولیت کو کہیں زیادہ محفوظ شکل دلانا اور بحیرہ روم میں ایک علاقائی اداکارا کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوانا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے میدان ِ جنگ میں حاصل کردہ کامیابیوں کو سفارتی زمین پر بھی جاری رکھنے کے ساتھ ممکن بن سکتا ہے۔ اس نکتے پر چند عوامل پر زور دینا لازمی ہے۔

ان میں سے پہلا عمل مسئلہ لیبیا کو سعودی عرب ۔ متحدہ عرب امارات۔ مصر کے اعتبار سے کسی علاقائی مسئلے کی شکل دینا ہے۔ جو کہ ترکی کی خطے میں حرکات و سکنات کو محدود کرتا ہے۔ ترکی کے ان تینوں ممالک کے ساتھ دو طرفہ سطح پر مسائل کی طرح علاقائی ویژن اور نقطہ نظر کے اعتبار سے تفریق بھی نمایاں ہے۔ لیبیا میں ترکی کی پوزیشن نے اس سہہ رکنی فریق کو مزید طیش دلایا ہے۔ تا ہم لیبیا میں قطعی حل کے حصول کے لیے ا ن ممالک کے بھی کسی نہ کسی طریقے سے اس سلسلے میں شامل ہونے کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مذکورہ ممالک کو سفارتی زمین پر یکجا کرنا انتہائی اہم ہے۔

اس مرحلے پر روس اور ترکی کے مابین لیبیا کے معاملے پر مصالحت بھی اہمیت کی حامل ہے۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روس، شام کی طرح لیبیا میں بھی اپنی فوجی طاقت کو پوری طرح منوانے سے قاصر رہا ہے۔ اس بنا پر روس کےفوجی اثرِ رسوخ کو مزید مظبوطی حاصل کرنے سے قبل ہی لیبیا میں حل کی زمین کو ہموار کرنا لازمی ہے۔ اس طریقے سے مصر۔ سعودی عرب۔ متحدہ عرب امارات اتحاد کی کاروائیاں کرنے کی طاقت کو کم سے کم سطح تک لایا جانا ممکن بن سکتا ہے۔

امریکہ کے لیبیا مساوات میں براہ راست داخل ہونے کا احتمال معدوم ہے تو بھی بحیرہ روم میں محدود سطح کی حکمتِ عملی کے اعتبار سے یہ لیبیا کو اہمیت دیتا ہے۔ اس بنا پر ترکی، امریکہ کی روس کے خلاف پوزیشن کی وساطت سے لیبیا میں توازن قائم کر سکتا ہے۔

ترکی کی لیبیا حکمتِ عملی کا اہم ترین حصہ قومی مطابقت حکومت کی حیثیت کو تقویت دلاتے ہوئے سرعت سے اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے پر مبنی ہے۔ اس کے لیے لیبیا کے سیکورٹی شعبے سمیت سیاسی عبوری دور کے لیے ایک اہم فنکشن ہونے والی سیاسی، سماجی اور سوشیالوجی زمین کو تقویت دلانا حد درجے اہم ہو گا۔

تبصرے
Loading...