ترکی فتح کی جانب گامزن ہے، صدر ایردوان

0 200

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "اگر ہم ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں پر پرانے ترکی جیسے اقدامات اٹھاتے تو اب تک ایک عظیم سانحہ رونما ہو چکا ہوتا۔ گو کہ کچھ حلقے اب بھی ترکی کی جدوجہد کا اندازہ نہیں لگا پا رہے، لیکن ہمارے عوام نے جانا، سمجھا اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ہاں! ترکی نے ایک نئی جنگِ آزادی کا اعلان کردیا ہے اور اب فتح کی جانب گامزن ہے۔”

صدر اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے دیکھا کہ آپریشن چشمہ امن نے زبردست نتائج پیش کرنا شروع کردیے ہیں، نہ صرف سکیورٹی پالیسیوں اور امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کے ضمن میں بلکہ مقامی پالیسیوں کے سلسلے میں بھی۔ ہم نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں کے حوالے سے پچھلی رات صورت حال کا جائزہ لیا۔ ان میں سے ایک قرارداد ارمنی نسل کشی کے حوالے سے ہے۔ درحقیقت، امریکی سیاست کے کرتا دھرتا تقریباً 20 سال سے اس طرف زور لگا رہے ہیں۔ اس سمت میں پیش بندی اب تک انتظامیہ کی فہم و فراست کی وجہ سے رکی رہی، جس کے بعد امریکی عوام میں ترک مخالف فضاء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایسی قرارداد منظور کی ہے۔ یوں، اسے موقع پرستی کہنا چاہیے۔”

"ترکی یک طرفہ فیصلے کرنے والے تمام اقدامات کو مسترد کرتا ہے”

"بلاشبہ، ہمارے لیے یہ قرارداد کوڑے کا ڈھیر ہے، بالکل ویسے ہی اقدامات کی طرح جو پہلے دوسرے ممالک کے خلاف اٹھائے گئے،” صدر ایردوان نے زور دیتے ہوئے کہا۔ "دو ٹوک بات یہ ہے کہ وہ اپنی مستی میں خود مست ہیں۔ ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ ترکی کے خلاف ایسی تہمت ایک پارلیمنٹ نے لگائی۔ یہ کیسی ذہنیت ہے؟ ہم کسی بھی طرح آپ کے اٹھائے ہوئے اقدامات اور کیے گئے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کا ہر رکن جس نے ہمارے ملک کے خلاف ووٹ دیا ہے، جلد از جلد حقائق دیکھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ترکی نے ماضی میں سالہا سال تک ارمنی دہشت گرد تنظیموں کے حملوں کو سہا ہے۔ خاص طور پر 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں ASALA نے 21 سے زیادہ ممالک میں ترک سفارت خانوں پر حملے کیے۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے؟ ہمارے پاس اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ان حملوں میں ہمارے 40 سے زیادہ سفارت کار اور نمائندے شہید ہوئے۔ کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ ہم ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتے ہیں کہ جس میں ترکی کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر ہی نہ ہو اور یک طرفہ فیصلہ مسلط کیا گیا ہو کہ وہ بھی ایسے واقعے پر جو ایک صدی پہلے پیش آیا۔ مجھے یقین ہے کہ ترکی کی قومی اسمبلی تاریخی حقائق کے برعکس اٹھائے گئے اس قدم کے خلاف باضابطہ ردعمل دکھائے گی۔”

"ایک ملک، جس کی تاریخ نسل کشی، غلامی اور استحصال سے بھری پڑی ہے، ترکی کو لیکچر نہیں دے سکتا،” صدر ایردوان نے زور دیا۔ "ہم آئندہ دنوں میں اس معاملے کو گہرائی سے دیکھیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔”

پارلیمانی گروپ اجلاس کے بعد صدر ایردوان نے آق پارٹی کے صوبائی صدور سے بھی ملاقاتیں کیں، جو پارٹی کے قیام سے اس کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...