عالمی سطح پر سیاسی و معاشی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، اس اہم دور میں ترکی تاریخی جدوجہد کر رہا ہے، صدر ایردوان

0 122

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی اس اہم دور میں تاریخی جدوجہد کر رہا ہے کہ جس میں عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ اپنی ریاست کی عظمت اور قوم کے اتحاد سے طاقت پاتے ہوئے ہم اس جدوجہد میں کامیاب ہونے کے لیے پرعزم ہیں۔”

صدر اور چیئرمین انصاف و ترقی (آق) پارٹی رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا۔

"داعش کے خلاف حقیقی جنگ صرف ترکی لڑ رہا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں اپنی گفتگو کا آغاز خطائے اور اسکندرون سے کروں گا۔ گزشتہ روز ہماری سکیورٹی فورسز نے اپنی ہوشیاری اور معاملہ فہمی کے ذریعے مختصر سے وقت میں دو دہشت گردوں کو شناخت کیا، جو امانوس پہاڑوں کے ذریعے ملک میں حملہ کرنے کے لیے داخل ہوئے تھے، اور یوں ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔ یہ پتہ چلا ہے کہ یہ دہشت گرد، جن کو ہماری سکیورٹی فورسز نے ٹھکانے لگا دیا ہے، ایک پہلے سے شناخت کردہ گروپ کے آخری اراکین تھے۔ میں سکیورٹی فورسز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کی پیشانی چومتا ہوں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا ہے کہ شام سے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے ترکی کے خدشات کتنے درست ہیں۔ ادلب پر ہمارے عزم کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا اور یہ بھی کہ آپریشن فرات شیلڈ، شاخِ زیتون، چشمہ امن اور چشمہ سپر محض بہانہ یا اندیشہ نہیں تھے بلکہ امن و امان کے حوالے سے اصل خدشات پر مبنی تھے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہم سے کیے گئے تمام تر دعووں کے باوجود ہمارے ساتھ لگنے والی شامی سرحد کے پار جو علاقے ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں وہاں دہشت گرد تنظیم کی موجودگی اور ہمیں درپیش خطرات بدستور موجود ہیں۔ جب تک ہم سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے اور تمام دہشت گرد ہماری دی گئی حد سے آگے نہیں دھکیل دیے جاتے، میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ جب بھی ہمیں ضرورت پڑی ہم قانونی کرنے کا جواز رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پکڑے گئے کئی دہشت گردوں کی وجہ سے ہمیں معلوم ہے کہ داعش کے اراکین جو ہمارے ملک میں شام سے آتے ہیں، مسلسل حملے جاری رکھیں گے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بہانہ بنا کر شام میں موجودگی رکھنے والوں کے بہانے بے سر و پا ہیں۔ داعش کے خلاف حقیقی جنگ صرف ترکی ہی لڑ رہا ہے۔”

"ترکی ضرورت پڑنے پر شام سے تمام دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ادلب میں شام کی قومی فوج کے تربیتی مرکز پر روس کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں دیرپا امن مطلوب نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ امریکا شام کی عراقی سرحد کے ساتھ جو ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے وہ نئے تنازعات اور نئے سانحات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شامی عوام حکومت اور ان طاقتوں کے اس کھیل کی قیمت اپنے لہو سے ادا کر رہے ہیں، کہ جو خطے کے باہر سے آ رہی ہیں اور دہشت گرد تنظیمیں ان کے قابو میں ہیں۔ ہم اس منافقت، نامناسب اور غیر منصفانہ اقدامات کا محض نظارہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم ہر واقعے کا درد محسوس کرتے ہیں جو ہماری سرحدوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ خطائے میں پیش آنے والا واقعہ اس کی آخری اور سب سے مضبوط مثال ہے۔ یہ طاقتیں، جو شام کی سرزمین پر بیٹھی ہوئی ہیں، لیکن داعش کے خلاف اس طرح نہیں لڑ رہیں جیسے ہم لڑ رہے ہیں، انہیں یہ ڈرامے اب بند کر دینے چاہئیں۔ ترکی ضرورت پڑنے پر شام سے تمام دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہمارا واحد مقصد اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، اور امن و فلاح کے لیے شامی عوام کی مدد کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری کسی کی بھی سرزمین پر، تیل کے ذخائر یا حقوق پر نظریں نہیں ہیں۔”

"ہم ایسی قوم ہیں جو اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے مقدسات کا احترام کرتی ہے”

اسلاموفوبیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی خاص طور پر یورپی رہنماؤں میں کینسر کی طرح پھیل رہی ہے۔ فرانسیسی جریدے میں اپنے خلاف شائع شدہ خاکوں پر صدر ایردوان نے کہا کہ انہوں نے وہ خاکے نہیں دیکھے کیونکہ وہ ایسے غیر اخلاقی جریدے کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں سمجھتے۔ صدر نے مزید زور دیا کہ ان کا غم و غصہ اپنی ذات پر حملے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہی جریدہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کر چکا ہوں۔ "ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ ہدف میری ذات نہیں، بلکہ وہ اصول ہیں جن کی ہم بات کرتے ہیں۔” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "یہ یورپ کی بربریت کے دور میں واپسی کی علامات ہیں۔ فرانس اور بحیثیت مجموعی یورپ بھی ماکرون اور ان جیسے رہنماؤں کی بے ثمر، اشتعال انگیز اور خبیث پالیسیوں کا حقدار نہیں ہے کہ جو نفرت کو پھیلاتی ہیں۔”

عقلِ سلیم رکھنے والے یورپیوں سے آگے بڑھنے اور اپنے اور اپنے بچوں کو روشن مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ” ہم مقامی سیاست میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ترکوں اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی ظاہر کرنے والوں کو کہتے ہیں کہ اپنے غلیظ ہاتھ ہماری مقدس اقدار سے دور رکھیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اپنے عقائد اور اقدار پر حملوں کا جواب کبھی گھٹیا پن سے نہیں دے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ایسی قوم ہیں جو اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کے مقدسات کا احترام کرتی ہے۔ ہماری سرزمین پر صدیوں سے مساجد، گرجے اور یہودی معبد ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ یہ ہمارے آبا و اجداد اور ہماری ریاست کے تحفظ میں ہیں۔ استانبول سے خطائے تک اس کی ان گنت مثالیں اب بھی موجود ہیں۔”

"ہم کسی کے عقائد یا مقدس اقدار میں مداخلت نہیں کرتے”

مغربی ممالک سے مطالبہ کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ "یہ تم نہیں تھے کہ جس نے روانڈا میں لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا؟ یہ تم نہیں تھے جس نے لاکھوں الجزائری باشندوں کو مارا؟ یہ تم نہیں تھے کہ جس نے افریقہ کے ہر ملک کا رخ کیا محض اس کے ہیرے، فاسفیٹ اور سونا حاصل کرنے کے لیے اور وہاں کے لوگوں کا قتلِ عام کیا؟ تم قاتل ہو، قاتل۔”

صدر ایرودان نے کہا کہ "ان لوگوں کے ساتھ دشمنی کی کوئی وجہ نہیں کہ جن کے ساتھ ہم ہزاروں سال سے رہ رہے ہیں۔ ہم صرف خود کو داخلی و خارجی حملوں سے بچا رہے ہیں۔ ایسے واقعات جیسا کہ بے دخلی اور آبادی کے تبادلے مغربی طاقتوں کے کھیلوں کا تلخ نتیجہ ہے کہ جو انہوں نے ہماری سرزمین پر کھیلے۔ اس کے باوجود دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے جو ہمارے ملک میں رہتے ہیں ہمارے شہری یا مہمان کی حیثیت سے، وہ برداشت اور احترام کے انوکھے ماحول میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔”

ملک بھر میں 435 گرجے اور یہودی معبد عبادت کے لیے کھلے ہیں اور ریاست کی حفاظت میں ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کسی کے عقیدے، عبادت یا مقدس اقدار میں مداخلت نہیں کرتا۔

رجب طیب ایردوان نے زور دیا کہ صدر ترکی اپنے مسیحی اور یہودی شہریوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے، اور کہا کہ "ہمارے ملک میں برداشت کا یہ رحجان ہمارے عقیدے اور ہمارے دل کی گہرائیوں سے آتا ہے، یہ منافقت نہیں ہے کہ جو فسطائیت نے یورپ میں اپنے چہرے پر اوڑھ رکھی ہے۔” صدر نے مزید کہا کہ جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکیل وضاحت نہیں کر سکتیں کہ جرمنی میں فجر کی نماز کے دوران 100 سے 150 جرمن پولیس اہلکار مولانا مسجد میں کیوں داخل ہوئے۔

تبصرے
Loading...