ترکی خطے میں قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ہر پلیٹ فارم پر مذاکرات کے حق میں ہے، قومی سلامتی کونسل

0 162

صدر رجب طیب ایردوان کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کونسل (NSC) کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ "سب سے پہلے ان ممالک سے عقلِ سلیم استعمال کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے کہ جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے برخلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، بالخصوص ان جزائر پر فوج اتارنے والے کہ جو غیر عسکری حیثیت رکھتے ہیں؛ اور ترکی خطے میں قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ترجیحاً اور ہر پلیٹ فارم پر مذاکرات کے حق میں ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کونسل کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک دہشت گرد تنظیموں خاص طور پر PKK/KCK-PYD/YPG، FETO اور داعش کے خلاف کامیابی سے کیے گئے آپریشنز سے آگاہ کیا گیا، یہ تنظیمیں ہمارے قومی اتحاد اور سالمیت اور ہماری بقاء کے لیے خطرہ ہیں۔

مشرقی بحیرۂ روم میں بحری حدود کے حوالے سے اختلاف رائے پر کشیدگی کو بڑھانے والے کرداروں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بیان کہتا ہے کہ "اس امر پر زور دیا گیا کہ ترک قوم نے زمین پر، سمندروں میں اور فضاؤں میں اپنے حقوق، تعلق اور مفادات کے تحفظ پر کوئی رعایت کی ہے، اور نہ آئندہ کرے گی۔”

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "سب سے پہلے ان ممالک سے عقلِ سلیم استعمال کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے کہ جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے برخلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، بالخصوص ان جزائر پر فوج اتارنے والے کہ جو غیر عسکری حیثیت رکھتے ہیں؛ اور ترکی خطے میں قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ترجیحاً اور ہر پلیٹ فارم پر مذاکرات کے حق میں ہے۔”

بیان کہتا ہے کہ "اس امر پر زور دیا گیا کہ ترکی، جو ہر علاقائی اور عالمی معاملے میں انصاف، شفافیت اور برابری کی بات کرتا ہے، مشرقی بحیرۂ روم میں بھی انہی اصولوں اور اقدامات کی پاسداری کرتا ہے؛ اور تمام تنظیمیں، خاص طور پر یورپی یونین، اور متحارب فریقین سے اپنے ملک کے مؤقف کا اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حقوق اور مفادات کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی، جس نے قانونی حیثیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شام اور لیبیا میں امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کیا ہے، ان ممالک میں امن و فلاح کے لیے اسی مؤقف کا حامی رہے گا؛ اور یہ کہ بین الاقوامی برادری غیر قانونی گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں اور ان کے پشت پناہوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے کہ جو مظلوم عوام کی آزادی اور وسائل کو غصب کر رہے ہیں۔”

تبصرے
Loading...