ترکی اپنے ترقیاتی ایجنڈے پر کوئی سودے بازی کیے بناء اپنے راستے پر آگے بڑھتا جا رہا ہے، صدر ایردوان

0 115

دیاربکر-ارگانی-ایلازغ شاہراہ دیویغہ چیدی پُل اور منسلک سڑکوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی کے ترقیاتی ڈھانچے کی مستقل بہتری کے ذریعے ہم ملک کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنے کا میدان تیار کر رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں کووِڈ-19 کی وجہ سے دنیا سیاسی سے لے کر سماجی افراتفری تک کئی مسائل میں جکڑی ہوئی ہے، ترکی اپنے ترقیاتی ایجنڈے پر کوئی سودے بازی کیے بناء اپنے راستے پر، شکر گزاری کے احساس کے ساتھ، بڑھتا جا رہا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے دیاربکر-ارگانی-ایلازغ شاہراہ دیویغہ چیدی پُل اور منسلک سڑکوں کی افتتاحی تقریب سے بذریعہ وڈیو کانفرنس خطاب کیا۔

"ہم ملک کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنے کا میدان تیار کر رہے ہیں”

خلاء میں بھیجے گئے جدید سیٹیلائٹ سے لے کر مقامی طور پر تیار کردہ ہیلی کاپٹر انجن تک، ترکی کی جانب سے حال ہی میں مکمل کردہ اہم منصوبوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کے ترقیاتی ڈھانچے کی مستقل بہتری کے ذریعے ہم ملک کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنے کا میدان تیار کر رہے ہیں۔ ہم وباء کے خلاف جنگ سے لے کر ہیلتھ کیئر سروسز اور سپورٹ پروگراموں تک ہر حوالے سے ایسے کام کر رہے ہیں کہ جو دوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔”

صدر نے زور دیا کہ ” ایک ایسے وقت میں کووِڈ-19 کی وجہ سے دنیا سیاسی سے لے کر سماجی افراتفری تک کئی مسائل میں جکڑی ہوئی ہے، ترکی اپنے ترقیاتی ایجنڈے پر کوئی سودے بازی کیے بناء اپنے راستے پر، شکر گزاری کے احساس کے ساتھ، بڑھتا جا رہا ہے۔”

"سوشل میڈیا کو قانونی دائرے میں لانے کی ہماری کوششوں کی مخالفت کرنے والے خود سینسرشپ کی بدترین مثالیں قائم کر رہے ہیں”

یورپ اور امریکا میں حال ہی میں سامنے آنے والے کئی واقعات ترکی کے حوالے سے دہرے معیارات کو ثابت کر رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جو ترکی پر ملک کے اندر جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات لگاتے ہیں، خود اپنے ملکوں میں ایسے ہی خطرات کا سامنا کرنے پر کہیں زیادہ سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ” جو سوشل میڈیا کو کہ جہاں ذاتی حقوق اور آزادی کی بڑے پیمانے پر دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں، قانونی دائرے میں لانے کی ہماری کوششوں کی مخالفت کر رہے ہیں، خود سینسرشپ کی بدترین مثالیں قائم کر رہے ہیں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ان ممالک پسماندہ گروہوں کے مظاہروں کے بے ڈھنگے انداز میں کچلنے کا انتخاب کیا، جو سماجی امن اور ریاست و قانون کو چلانے کے لیے سخت گیر اقدامات اٹھا رہے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ وہ کہ جنہیں کبھی بھی حقیقی دہشت گردی کا سامنا تک نہیں کرنا پڑا، وہ بھی سالہا سال سے جاری ہماری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ہم نے چند مہینے پہلے فرانس کی مثال دیکھی۔ ہم نے امریکا میں ہونے والے واقعات پر بھی ایسا ہی ردعمل ملاحظہ کیا۔”

صدر نے کہا کہ "یہ سب کچھ مغربی دنیا کے لیے ناگزیر بناتا ہے کہ وہ جمہوریت ، حقوق اور آزادی کی کے حوالے سے دیانت داری کے ساتھ اپنے اندر گریبان میں جھانکے۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا یا اپنی غلطیوں کو ایسے ہی جواز دیا جاتا رہا، تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا ایک نئے دوراہے پر آ چکی ہے۔”

"وباء کے ساتھ عالمی سیاسی اور معاشی نظام کا اختتام ناگزیر ہو چکا ہے”

اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ اب منصفانہ و پائیدار اور نسل ، رنگ ، عقیدے یا ثقافت کے کسی بھی امتیاز سے بالاتر پوری انسانیت کو اپنی آغوش میں لینے والی نئی مشترکہ اقدار کی ضرورت ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عالمی سیاسی و معاشی نظام، جس کی تشکیلِ نو وباء کے ساتھ ناگزیر ہو چکی ہے، اسی تناظر میں ابھرے گا۔ یہی طرزِ عمل وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو جنگ و جدل سے بچا سکتا ہے، جن سے صرف پچھلی صدی ہی میں کروڑ ہا افراد کی جانیں گئی ہیں۔ ترکی اس خطے اور دنیا بھر میں اس نقطہ نظر کو فروغ دینے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم ہر اُس پلیٹ فارم پر، جس کے ہم رکن ہیں، اپنے ہم خیالوں کے ساتھ ان خیالات کو شیئر کرتے ہیں، خاص طور پر اقوامِ متحدہ میں، اور دو طرفہ مذاکرات میں بھی۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہم ایسے مقام پر ہیں جو ہماری تہذیب، ہزار ہا سال قدیم روایات اور ثقافتی پسِ منظر کے ساتھ ہمیں ایک امید دیتا ہے۔”

تبصرے
Loading...