ترکی کوئی غاصب نہیں بلکہ افغان دوست قوت ہے، ترجمان آق پارٹی

0 2,194

ترکی کی حکمران جماعت آق پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے بالآخر طالبان کے بیانات پر باقاعدہ تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی کوئی غاصب نہیں، بلکہ افغان دوست ریاست ہے۔

انہوں نے میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ناٹو وہاں سے انخلاء کر رہی ہے۔ اگر کابل ائیرپورٹ کی حفاظت نہ کی گئی تو کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں، ترکی تمام فریقین سے وہاں بات چیت کر رہا ہے تاکہ سفارتی مشن ختم نہ ہوں۔

عمر چیلک نے مزید کہا کہ طالبان کے بیان میں ایک قسم کے منفی جملے موجود ہیں۔ تاہم ہم اسے مواصلاتی غلطی سمجھتے ہیں۔ ترکی کوئی غاصب قوت نہیں ہے۔ ہم افغان عوام کی دوست قوت ہیں۔ اگر وہاں ترکی رکا تو افغانستان کے تسلیم شدہ نمائندوں کی دعوت کے تحت رہے گا۔ بلاشبہ اس ضمن میں طالبان سمیت تمام اکائیوں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

پارٹی ترجمان نے واضع کیا کہ ہم وہاں پر جو بھی سرگرمیاں کریں گے وہ افغان عوام کے مفادات کے تحت کریں گے۔ اور اب تک بھی ہم نے وہاں جو کچھ کیا ہے وہ بھی اسی طرح کیا ہے افغان عوام کے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم کچھ تبصروں پر بات کریں گے کہا جا رہا ہے کہ ترکی کا افغانستان میں کیا کام۔ ہم وہاں پہلے ہی موجود ہیں۔ یعنی کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ ہم چھ سال سے اسی ائیرپورٹ پر ہیں۔ دوسری چیز کہ جب ہم جیوپولیٹکل پس منظر میں دیکھتے ہیں تو اگر افغانستان میں عدم استحکام سے نقل مکانی، دہشتگردی اور ڈرگ ٹریفکنگ کا دباؤ بڑھتا ہے تو ترکی کے مشرقی باڈر پر اس کا بہت بڑا دباؤ پڑے گا۔ یہ ہمارے لیے بھی عدم استحکام پیدا کرنے والا عنصر ہے۔

عمر چیلک نے مزید کہا کہ اس لحاظ سے یہ ترکی کی قومی سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ تاریخی تعلقات کے تناظر میں بھی اور قومی سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی یہ ترکی کے لیے اہم ہے۔

 

تبصرے
Loading...