ترکی قومی آمدنی کے لحاظ سے سب سے زیادہ انسانی امداد دینے والے ملکوں میں سے ایک ہے، صدر ایردوان

0 348

جی20 روم اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم قومی آمدنی کے لحاظ سے دنیا بھر میں انسانی و ترقیاتی امداد دینے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہیں۔ جی20 ممالک کی طرح ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ 2030ء تک دنیا کو قحط سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوششوں میں پیش پیش رہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے جی20 روم اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اٹلی کو وبا کے دوران اس تنظیم کی کامیاب صدارت پر مبارک باد دیتے ہوئے صدر ایردوان نے ترک وفد کی میزبانی پر روم کا شکریہ ادا کیا۔

"ہماری معیشتوں کو عالمی معیشت کی بحالی کے باوجود بڑے چیلنجز کا سامنا ہے”

اجلاس کے دوران عالمی معاشی منظرنامے کے حوالے سے تازہ ترین پیشرفت اور بنیادی خطرات پر خاص طور پر بات کی گئی، جس پر صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ "ہماری نظریں ایک ایسے وقت میں معیشتوں کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور انہیں تحریک دینے کے لیے پالیسی سفارشات پر رہیں، جب وبا کے مضر اثرات بدستور محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ہماری معیشتوں کو 2021ء میں عالمی معیشت کی بحالی کے باوجود بدستور بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی، جس کی معیشت 2020ء میں 1.8 فیصد بڑھی اور وہ 2021ء کے اختتام تک تقریباً 9 فیصد نمو حاصل کرنے والا ہے، عالمی معیشت میں ہونے والی پیشرفت کا قریبی مشاہدہ کر رہا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے کوشش کی ہے کہ عالمی اتار چڑھاؤ کے اپنے شہریوں پر کم سے کم اثرات مرتب ہوں۔”

"ہم نے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے”

یہ بات کرتے ہوئے کہ موجودہ صورت عہد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ‘مجھے دوسروں کی پروا نہیں’ چاہے وہ دنیا کے جس حصے میں بھی رہتا ہو، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے 2015ء میں جی20 میں اپنی صدارت کے دور میں غذائی تحفظ (فوڈ سکیورٹی) کو اپنی اہم ترجیحات میں شمار کیا تھا۔ ہم ہمیشہ سے دنیا بھر کو دی جانے والی اپنی ترقیاتی امداد میں اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہیں، خاص طور پر افریقہ میں۔ مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھانے کا ہدف رکھنے والے منصوبوں کے ساتھ ہم نے کئی مقامات پر لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا کام کیا ہے۔”

صدر ایردوان نے مزید زور دیا کہ "ہم قومی آمدنی کے لحاظ سے دنیا بھر میں انسانی و ترقیاتی امداد دینے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہیں۔ جی20 ممالک کی طرح ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ 2030ء تک دنیا کو قحط سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوششوں میں پیش پیش رہیں۔”

تبصرے
Loading...