ترکی واحد ملک تھا جس نے صومالیہ میں ظلم پر اپنی انسانی ذمہ داری پوری کی، ایردوان

0 167

مختاروں کی چالیسویں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے ترکی کے بلقان سے افریقہ تک مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ تاریخی اور ثقافتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا: "انقرہ کے مشرق اور شمال کے سارے جغرافیےہمارا آدھا دل ہے اور جنوب اور مغرب کے سارے جغرافیے ہمارے دل کا دوسرا نصف ہیں۔ کیا کوئی شخص اپنے دل کے ٹکڑے کر سکتا ہے یا اس کا حصہ چھوڑ سکتا ہے؟ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو جہاں بھی ہوں نہیں چھوڑ سکتے”۔

ترکی نے دہشتگرد محاصرے کا سامنا کیا ہے

ایردوان نے کہا: "ترکی مختلف قسم کی دہشتگرد تنظیموں سے جنگ کر رہا ہے جن میں فیتو، پی کے کے اور داعش شامل ہیں اور ہم نے دہشتگرد محاصرے کا سامنا کیا ہے”۔

انہوں نے کہا: "چونکہ ہمارے لوگ دو صدیوں کے لئے اس خطرات سے واقف ہیںہم نے اپنیے سکون، سادگی، عمومی احساس کو محفوظ کیا ہے اور اپنے جذبات کے بادلوں کو اپنے فیصلے پر نہیں پڑنے دیا”۔۔

"ترکی اپنی بڑی طاقت اس حقیقت سے حاصل کرتا ہے کہ یہ لاکھوں بھائی اور بہن رکھتا ہے جن سے ہم مشترکہ تاریخی، ثقافتی بنیادوں اور تہذیبی اقدار کی بنیاد پر جڑے ہیں”۔

ترکی تیزی سے صومالیہ کی طرف دوڑا جب ایک دہشتگرد حملے جس میں 300 سے زائد لوگ نشانہ بنے انہوں یہ بتاتے ہوئے کہا: "دنیا کے باقی ممالک کہاں ہیں؟ جب باتوں کی باری ہوتی ہے تو بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں۔ کیا تمہارے پاس جہاز، سرجن اور ڈاکٹرز نہیں ہیں؟ تم انہوں کیوں مشکل میں بھیجتے نہیں ہو؟۔ صومالہ میں ابھی بھی ترک ڈاکٹر زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں، کچھ زخمیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ علاج معالجہ کے لیے ترکی لایا گیا ہے”۔

ادلب کے مصائب یا پھر اپنے صوبوں ہاتے اور غازی انتیب کے مصائب میں ہم کوئی فرق روا نہیں رکھتے

صدر ایردوان نے کہا: "وہ کہتے ہیں ‘تم شام میں کیا کر رہے ہو؟، عراق میں تمہارا کیا کام ہے؟ بلقان میں تم کیا کرتے پھرتے ہو اور اسی طرح کاکاساس، وسطی افریقہ اور شمالی افریقہ میں کیوں پھر رہے ہو؟’۔ یہاں ہم انہیں مخاطب کر کے جواب دیتے ہیں جو تاریخی شواہد کو بھول گئے ہیں: انقرہ کے مشرق اور شمال کے سارے جغرافیےہمارا آدھا دل ہے اور جنوب اور مغرب کے سارے جغرافیے ہمارے دل کا دوسرا نصف ہیں۔ کیا کوئی شخص اپنے دل کے ٹکڑے کر سکتا ہے یا اس کا حصہ چھوڑ سکتا ہے؟ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو جہاں بھی ہوں نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ادلب کے مصائب یا پھر اپنے صوبوں ہاتے اور غازی انتیب کے مصائب میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے”۔

عراق اور شام میں رہنے والے عرب، ترکمانی اور کرد ہمارے بھائی ہیں

صدر ایردوان نے واضع کرتے ہوئے کہ انہیں شام یا عراق میں رہنے والے کردوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، کہا: "ہم عراق اور شام میں کردوں کو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسے ہم ترکمانوں اور عربوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم ان تمام کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں”۔

انہوں نے کرد علاقائی حکومت کے ساتھ ترکی کے سالوں پر محیط تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "اگر شمالی عراق میں وہاں کے باشندے امن اور خوشحالی کے ساتھ رہتے ہیں تو اس میں ایک بڑا حصہ ترکی کا ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ معاشی مسائل کا سامنا کر رہے تھے تو ترکی نے کرد علاقائی حکومت کو آسان قرضے دئیے۔ انہوں نے کہا: ” شمالی عراق کی انتظامیہ کے ساتھ اس قدر تعلق اور تعاون کے بعد آخری ترکی کیوں اپنے سرحدی دروازے اور فضائی حدود پر پابندی عائد کر رہا ہے؟۔  اس کا جواب کرد علاقائی حکومت کو سوچنا چاہیے کیوں کہ ہم ان معاملات کو یہاں تک نہیں لائے بلکہ خود لائے ہیں۔ وہ جو خطے کی کثیر شناختی نظام کو کمزور کر کے شاطرانہ تیزی سے موقع پرست بنتے ہیں تو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے”۔

تبصرے
Loading...