بحیرۂ اسود، ترکی نے نئے مقام پر ڈرلنگ کا آغاز کر دیا

0 162

ترکی کے پہلے ڈرِل شپ ‘فاتح’ نے بحیرۂ اسود میں ایک نئے مقام پر ڈرلنگ شروع کر دی ہے، جہاں حال ہی میں ملک کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تھے۔

‘فاتح’ بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع شہر فلیوس میں مرمت کا کام مکمل کروانے کے بعد پیر کو صقاریہ گیس فیلڈ کے ترکالی-1 نامی کنویں پر پہنچا تھا۔ توانائی و قدرتی وسائل کے وزیر فاتح دونمیز نے جمعرات کو بتایا کہ ہم نے ابتدائی کام کے بعد ترکالی-1 میں ڈرلنگ شروع کر دی ہے۔ ڈرلنگ میں 75 دن لگیں گے اور امید ہے کہ یہ فائدہ مند ہوگی۔

یاد رہے کہ فاتح نے حال ہی میں صقاریہ گیس فیلڈ میں ٹونا-1 نامی مقام سے 405ارب مکعب میٹر (bcm) گیس دریافت کی تھی، جو ترکی کے ساحل سے 100 بحری میل کے فاصلے پر ہے۔

ترکی کو امید ہے کہ 2023ء تک اس فیلڈ سے گیس کی فراہمی کا آغاز ہو جائے گا، جس کی پیداوار سالانہ 5 سے 10 ارب مکعب میٹر ہوگی۔ توقع ہے کہ اس فیلڈ سے گیس کی پیداوار 2025ء تک تقریباً 15 ارب مکعب میٹر گیس تک پہنچ جائے گی۔

ترکی اس فیلڈ میں تقریباً 40 کنویں کھودنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جن میں سے 10 سال 2023ء تک مکمل ہو جائیں گے۔

تیسرا ڈرل شپ، قانونی، جس نے رواں سال کے اوائل میں ہی بیڑے میں شمولیت اختیار کی تھی، اس وقت استانبول میں موجود ہے اور جلد ہی ساحلی شہر فلیوس کے لیے روانہ ہو جائے گی اور اگلے سال جنوری میں فاتح کے ساتھ مل کر کام شروع کر دے گا۔

ترکی کے پاس اس وقت تین ڈرل شپس ہیں جو مشرقی بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود میں کام کر رہے ہیں۔ ‘یاوُز’ مشرقی بحیرۂ روم میں کام کرتا ہے جبکہ فاتح بحیرۂ اسود میں سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔

دونمیز نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ ترکی دونوں سمندروں میں اپنی تلاش کی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے نئے ڈرلنگ بحری جہاز کرائے پر حاصل کرنے یا خریدنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

ترکی کے پاس دو سیسمک بحری جہاز بھی ہیں جن کے نام عروج رئیس اور باربروس خیر الدین پاشا ہیں۔ یہ دونوں بحیرۂ روم میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...