کرونا وائرس کے خلاف جنگ، ترکی ایک نمایاں مثال

0 261

ایک ایسے وقت میں جب پڑوسی ممالک میں ایک، ایک کرکے کرونا وائرس کے کیسز سامنے آتے جا رہے ہیں،ترکی اب تک اس وباء سے محفوظ ہے اور یہی وجہ ہے کہ دو درجن سے زیادہ ممالک نے اس مہلک وائرس سے بچاؤکے لیے ترکی سے رابطہ کیا ہے ۔

انادولو ایجنسی کے مطابق 26 ممالک نے انقرہ میں موجود اپنے سفارت خانوں یا وزارتِ صحت کے ذریعے ترکی سے رابطہ کیا ہے کہ جس میں اس وائرس کو محدود کرنے کے لیے ترکی کے تجربے کے حوالے سے مشاورت طلب کی گئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک بھی شامل ہیں جیسا کہ اٹلی، ایران اور جنوبی کوریا۔

یہ درخواستیں اس لیے آئی ہیں کیونکہ ترکی اب تک اس وائرس سے بچا ہوا ہے، جبکہ اس کے تمام ہی پڑوسی ممالک میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے خاص طور پر اس نے مشرقی پڑوسی یعنی ایران میں تو تباہی پھیلا دی ہے کہ جہاں اب تک 194 افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

لیکن ترکی کے بچے رہنے کی وجہ خوش قسمتی یا اتفاق نہیں بلکہ یہ ترک حکام کے حفظِ ما تقدم کے تحت اٹھائے گئے بروقت اقدامات تھے جبکہ دیگر ممالک نے ردعمل دکھانے میں تاخیر کی۔

اس وباء کے پھیلنے کے بالکل ابتدائی مرحلے میں کہ جب چند ہی ممالک اس کی زد میں آئے تھے، ترکی ان اولین ملکوں میں سے ایک تھا کہ جس نے اپنی سرحدوں پر تھرمل اسکریننگ کا انتظام کیا۔ جنوری میں وزارت صحت نے استنبول ایئرپورٹ پر ابتدائی تین تھرمل کیمرے لگائے۔ پھر محض تھرمل اسکریننگ پر ہی بھروسہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ چین سے آنے والے مسافروں کو اضافی اسکریننگ اور قرنطینہ میں رکھنے کا انتظام کیا گیا۔ بعد ازاں اس فہرست میں مزید ممالک بھی شامل کیے گئے۔

تبصرے
Loading...