فیض سراج کے استعفے سے ترکی-لیبیا معاہدہ متاثر نہیں ہوگا، صدارتی ترجمان

0 135

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ لیبیا کے وزیر اعظم فیض سراج کا استعفیٰ کا فیصلہ ترکی کے ساتھ تعاون اور معاہدوں کو متاثر نہیں کرے گا۔ "یہ معاہدے اس سیاسی پیش رفت سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ یہ فیصلے حکومتوں نے کیے ہیں، کسی شخص نے نہیں۔”

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کے سربراہ فیض سراج نے پچھلے ہفتے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اکتوبر کے اختتام تک عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مراکش میں ہونے والے امن مذاکرات کے مطابق نئے حکمران کے حق میں عہدہ چھوڑیں گے۔

اگست میں حیران کن سیزفائر اور قومی انتخابات کے وعدے کے ساتھ لیبیا میں متحارب فریقین کے وفود نے رواں ماہ ملاقات میں مذاکرات کیے تھے۔

یہ صورت حال ترکی کے ساتھ سکیورٹی اور بحری حدود کے معاہدوں کے تقریباً ایک سال بعد پیدا ہوئی ہے۔

پیر کو ابراہیم قالن نے ایک انٹرویو میں تازہ صورت حال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ GNA بدستور لیبیا میں قانونی حکومت ہے اور ترکی نے اس کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کروانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ 10 سالوں میں لیبیا میں کئی سیاسی کرداروں کی تبدیلی پر ابراہیم قالن نے کہا کہ "بلاشبہ شخصیات اور نام بھی اہم ہوتے ہیں۔ بات چیت اور کوششیں انہیں کرداروں کے مابین ہوتی ہیں۔ ہمارا رابطہ دیگر کرداروں کے ساتھ ہے اور رہے گا۔ جیسا کہ ہمارے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے وفود دورہ کریں۔ ہماری لیبیا آمد و رفت جاری رہے گی۔”

صدر ایردوان نے پچھلے ہفتے سراج کے استعفے کو "افسوس ناک” قرار دیا تھا۔ ایردوان نے مزید کہا کہ جلد ہی ترک اور لیبیائی وفود کے مابین مذاکرات ہوں گے۔

ابراہیم قالن نے مزید کہا کہ لیبیا کی سلامتی اور استحکام شمالی افریقہ اور بحیرۂ روم کے خطے کے لیے بہت اہم ہے۔ پچھلے سال GNA حکومت کے ساتھ ہونے والے فوجی تعاون کے معاہدے کے تحت ترکی اپنی مدد جاریر کھے گا چاہے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت میں مرکزی کردار کوئی بھی نبھائے۔

انہوں نے لیبیا کے ساتھ معاہدوں کے تحت سکیورٹی اور بحری حدود کے معاہدے کے حوالے سے بھی کہا کہ سراج کے استعفے سے ان معاہدوں کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ "یہ فیصلے صدارتی کونسل نے کیے ہیں۔ ہمارے نمائندے بھی اس معاہدے کے تحت اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اگر فیض سراج اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دیتے ہیں تو ان کا کام کرنے والا عملہ، پارلیمان میں نمائندے، وزارتوں میں موجود حکام اور دیگر ایگزیکٹوز اس عمل کو جاری رکھیں گے۔ وہ ان کوششوں اور تعاون کو جاری رکھنے کا بھرپور عزم رکھتے ہیں۔”

ترکی لیبیا میں GNA کی حمایت کرتا ہے اور اپریل 2019ء میں باغی جرنیل خلیفہ حفتر کے خلاف دارالحکومت طرابلس کے دفاع میں فوجی مدد بھی دے چکا ہے۔ ترکی ہی کی مدد سے لیبیا کی قانونی حکومت نے حالات کو اپنے حق میں کیا۔

تبصرے
Loading...