ایک نیا سنگِ میل، بحیرۂ اسود کی گیس کا شعلہ بھڑک اٹھا

0 866

ترکی نے ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بحیرۂ اسود میں دریافت ہونے والی گیس کا شعلہ بھڑکا دیا ہے۔

جون میں اعلان کیا گیا تھا کہ شمالی صقاریہ فیلڈ کے کنویں اماسرا-1 سے 135 ارب مکعب میٹر گیس کا قدرتی ذخیرہ دریافت ہوا ہے، جس سے علاقے سے دریافت ہونے والی کُل گیس 540 ارب مکعب میٹر تک جا پہنچی۔ گزشتہ سال ترکی کے ڈرل شپ ‘فاتح’ نے بحیرۂ اسود میں ساحل سے 170 کلومیٹرز دُور 405 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس دریافت کی تھی، جو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی گیس دریافت تھی۔

اب اس گیس کو جلانے کا عمل باقاعدہ شروع کرنے پر صدر رجب طیب ایردوان نے ایک ورچوئل تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ "آج پہلی بار ہم بحیرۂ اسود سے خود دریافت کی گئی گیس جلا رہے ہیں۔ اس گیس کے آنے سے مستقبلِ قریب میں ہمارے غیر ملکی ذرائع پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔”

انقرہ کا ہدف ہے کہ 2023ء تک صقاریہ گیس فیلڈ سے نکلنے والی گیس ترکی کے مین گرڈ میں آ جائے اور 2027ء سے 2028ء میں مستقل پیداوار کا سلسلہ شروع ہو جائے۔

صدر نے کہا کہ ترکی نے بحیرۂ اسود میں جو کنویں کھودے ہیں، وہ پہلے نہیں ہیں اور بلاشبہ آخری نہیں ہوں گے۔ اس سے پہلے ہم بین الاقوامی اداروں کو ٹھیکے پر دے کر ایسے علاقوں میں ڈرلنگ کیا کرتے تھے۔ اب ہم نے اپنے بحری جہازوں سے اور اپنے انسانی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے یہ کام کیا ہے۔

ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ تمام تر کام اپنے بل بوتے پر کیا ہے اور اس میں کسی غیر ملکی ادارے کا کوئی حصہ نہیں۔

صدر ایردوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ

ترکی نے اپنی تکنیکی مہارت کے بل بوتے پر غیر ملکی انحصار کا خاتمہ کر دیا ہے، جو ڈرلنگ کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔

وزیر توانائی و قدرتی وسائل فاتح دونمیز کہتے ہیں کہ 2022ء میں 169 کلومیٹرز طویل ایک سمندری پائپ لائن بچھائی جائے گی جو ان کنوؤں کو مین گرڈ سے جوڑے گی۔ وہ ڈرل شپ ‘ فاتح’ پر ہونے والی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ بحیرۂ اسود کی گیس تین مراحل میں ترکی کے مرکزی علاقوں تک پہنچائی جائے گی جس میں سے پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں بحیرۂ اسود کے کنارے واقع بندرگاہ فلیوس پر ایک نیچرل گیس پروسیسنگ پلانٹ بنایا جائے گا، جس کا سنگِ بنیاد ڈیڑھ ماہ قبل رکھا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تیسرے مرحلے میں پائپ لائن کی تعمیر شامل ہوگی جو ان دونوں یونٹس کو ملائے گی۔ "2022ء میں ہم 169 کلومیٹرز طویل زیرِ آب پائپ لائن بچھائیں گے۔”

دونمیز نے کہا کہ بحیرۂ اسود کی صقاریہ فیلڈ میں ایک سال کے دوران پانچ گہرے کنووں کی ڈرلنگ کی گئی ہے، جن میں ڈرل شپ ‘ فاتح’ نے ترکالی-1، ترکالی-2 اور ترکالی-3 کے کنووں کی تلاش کا کام کیا بحری جہاز ‘قانونی’ نے گزشتہ ماہ ترکالی-2 میں کام کو تکمیل تک پہنچایا۔

ترکی میں قدرتی گیس کی سالانہ کھپت 45 سے 50 ارب مکعب میٹر ہے، جس کے لیے وہ 12 سے 15 ارب ڈالرز سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اس نے گزشتہ سال 48.1 ارب مکعب میٹر گیس درآمد کی تھی، جس کا ایک تہائی روس سے حاصل کیا گیا تھا۔

اب اس گیس کی دریافت سے ملک کی گیس درآمد پر انحصار میں کمی آئے گی، جس کے لیے وہ بذریعہ پائپ لائن روس کے علاوہ زیادہ تر آذربائیجان اور ایران سے اور بذریعہ ایل این جی نائیجیریا، الجزائر اور امریکا سے گیس حاصل کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...