استنبول میں اعصاب شکن معرکہ، الیکشن بورڈ نے نتیجہ روک دیا

0 760

(انقرہ – میڈیا رپورٹ) ترکی میں گزشتہ اتوار کو منعقد ہونے والے ملک گیر بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے، مگر دارالحکومت انقرہ اور ملک کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نتائج بدستور تنازع کا شکار ہیں۔ دونوں بڑے شہروں کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی خلق پارٹی انتہائی معمولی برتری کیساتھ کامیاب ہوگئی ہے مگر برسراقتدار آق پارٹی نے حریف جماعت کی اس کامیابی پر اعتراض اٹھادیا ہے۔ آق پارٹی کا کہنا ہے کہ انقرہ اور استنبول میں لاکھوں کی تعداد میں غیرمصدقہ ووٹ برآمد ہوئے ہیں، جنکی شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ان شکایات کے بعد ملک کے انتخابی قوانین پر عملدرامد کرتے ہوئے مجاز الیکشن بورڈ نے دونوں شہروں کے سرکاری نتائج روک لئے ہیں۔

منگل کی صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم الیکشن بورڈ کے چئیرمین سعد گوئن نے بتایا کہ ملک بھر میں انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو غیر حتمی نتائج جاری کئے جاچکے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ابھی صرف ان ہی حلقوں کے حتمی اور سرکاری نتائج جاری کئے جائیں گے، جہاں تمام متعلقہ فریقین غیرحتمی نتائج پر مطمئن پائے گئے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ تنازع سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن بورڈ کو انقرہ اور استنبول سے کچھ سنجیدہ شکایات موصول ہوئی ہیں، جنکا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ شکایت کی وصولی کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور سیاسی جماعتیں منگل کی سپہ پہر تین بجے تک ضلعی اور صوبائی الیکشن بورڈز سے رجوع کرسکتی ہیں۔ ان درخواستوں پر غور کے لئے ضلعی بورڈ تین یوم اورصوبائی بورڈ ایک دن کا وقت لے گا جبکہ تیسرے روز معاملہ سپریم الیکشن بورڈ کے پاس آئے گا۔

یاد رہے کہ جب اتوار کی شام نتائج کا سلسلہ شروع ہوا تو استنبول کے مئیر کیلئے آق پارٹی کے امیدوار سابق وزیراعظم بن علی یلدرم کو اپنے حریف امیدوار اکرم امام اوغلو پر واضع سبقت حاصل تھی۔ مگر رات گئے جوں ہی نتائج اپنے آخری مرحلے میں داخلے ہوئے تو دلچسپ صورتحال نے جنم لیا اور یہ برتری مسلسل کم ہونے لگی۔ اس اعصاب شکن مرحلے پر دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی کامیابی کے متضاد دعوے بھی کئے۔ یوں ناصرف استنبول کے شہریوں بلکہ اس تاریخی شہر کے مذکورہ اہم ترین بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی رکھنے والے دنیا بھر کے ناظرین غیریقینی کی کیفیت کا شکار ہوگئے۔ ایک موقع پر یہ صورتحال کسی ایسے میچ کا منظر پیش کررہی تھی، جس میں دو روایتی حریف مقابلہ کرتے کرتے کھیل کے اس آخری راونڈ میں داخل ہوگئے ہوں، جہاں تماشائی دانتوں تلے انگلیاں دبالیتے ہیں۔ اگلی صبح الیکشن بورڈ نے غیرسرکاری نتیجہ جاری کیا تو سابق وزیراعظم صرف سفر اشاریہ اٹھائس فیصد ووٹ سے ہار چکے تھے۔

اس انتہائی قریبی مقابلے میں غیر ممکنہ شکست کے بعد آق پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ انقرہ اور استبول میں غیر مصدقہ ووٹ، بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں پر اپنےاعتراضات اٹھا رہی ہے۔ پیر کی صبح پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری نعمان کرتولمس نے میڈیا کو بتایا تھا کہ استنبول میں تین لاکھ غیرمصدقہ ووٹ سامنے آئے ہیں جبکہ خلق پارٹی کی سبقت صرف 23 ہزار کی ہے اور اس نکتے کو بنیاد بناکر وہ اپنی درخواست مرتب کررہے ہیں۔ اس سے قبل پارٹی کے جنرل سیکرٹری فاتح سحین نے بھی انقرہ کے 12158 پولنگ اسٹیشن میں بے قاعدگیوں کاانکشاف کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ انکی جماعت اپنا قانونی حق کا استعمال کرے گی اور کسی کو بھی ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ عوام کے فیصلے کو تبدیل کیا جائے۔

تبصرے
Loading...