ضرورت پڑی تو ترکی انجیرلک ایئربیس بند کر سکتا ہے، صدر ایردوان

0 344

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "اگر ضرورت پڑی تو” ترکی ملک میں قائم وہ دو فوجی اڈے بند کر سکتا ہے کہ جہاں امریکی فوجی مقیم ہیں۔

"اگر ضرورت پڑی تو ہم اپنے وفود کے ساتھ بات کریں گے اور انجیرلک اور کوریجک بند کر دیں گے،” صدر ایردوان نے ٹیلی وژن چینل آ خبر سے انٹرویو میں کہا۔ انجیرلک جنوبی صوبہ ادانہ کی ایک ایئربیس ہے جبکہ کوریجک مشرقی ملاطیہ صوبے میں واقع ریڈار اسٹیشن ہے۔

"اگر وہ ہمیں پابندیوں سے دھمکا رہے ہیں تو ہم بھی جوابی ردعمل ظاہر کریں گے،” صدر نے کہا۔

امریکی سینیٹ میں 1905ء کے ارمنی واقعات پر منظور ہونے والی ایک قرارداد پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ بل "مکمل طور پر سیاسی تھا،” اور یہ ہم دونوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ امریکا باہمی تعلقات میں ایسے اقدامات نہ اٹھائے کہ جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔

"ہمیں افسوس ہے کہ امریکی مقامی سیاست میں تقطیب (polarization) ہمارے لیے منفی نتائج لائی ہے اور کچھ گروہ صدر ٹرمپ کو کمزور کرنے کے لیے اپنے مفادات پر کام کر رہے ہیں۔”

انہوں نے تجویز کیا کہ ترکی بھی ماضی میں مقامی امریکی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی قرار دینے پر پارلیمانی قرارداد پیش کر سکتا ہے۔

امریکی سینیٹ نے جمعرات کو اتفاقِ رائے کے ساتھ ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں 1915ء کے واقعات پر ارمنی دعووں کو تسلیم کیا گیا ہے۔

1915ء کے واقعات پر ترکی کا مؤقف یہ ہے کہ مشرقی اناطولیہ میں ارمنی باشندوں کی اموات تب ہوئی جب حملہ آور روسیوں کے ساتھ مل جانے والے کچھ حلقوں نے عثمانی افواج کے خلاف بغاوت کی۔ نتیجتاً ارمنی باشندوں کی منتقلی کے دوران کچھ اموات ہوئیں۔

ترکی ان واقعات کو "نسل کشی” نہیں مانتا بلکہ ایک سانحہ قرار دیتا ہے کہ جس میں دونوں اطراف کا نقصان ہوا۔

انقرہ نے بارہا ترکی اور ارمنی سمیت بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی ہے کہ وہ اس مسئلے کو جانچیں۔

1915ء کے واقعات کو "نسل کشی” قرار دینے کا معاملہ دہائیوں سے امریکی کانگریس میں زیر التواء تھا، جو ترکی کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے روکا جاتا رہا۔

ترکی اور امریکا کے تعلقات اس وقت مختلف معاملات کی وجہ سے کشیدہ ہیں، جس کی وجوہات شمالی شام میں YPG دہشت گرد گروپوں کی حمایت، گولن دہشت گرد گروپ (FETO) کے خلاف کوئی عدم کارروائی کے ساتھ ساتھ ترکی مخالف قانون سازی ہیں۔

تبصرے
Loading...